الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 353
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 347 اسے اکثر یہ احساس بھی نہیں ہو پاتا کہ اس کا ارتقائی منازل کے دوران پیش آنے والے ان بے شمار خطرات سے بچ نکلنا بجائے خود ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ہمیں ان ماہرین حیاتیات کا ممنون احسان ہونا چاہئے جنہوں نے نسلاً بعد نسل بڑی کوشش اور عرق ریزی سے ہمیں کسی حد تک زندگی کی نہ ختم ہونے والی بجھارتوں میں سے کچھ بجھارتوں کے سمجھنے میں مدد کی ہے۔مگر افسوس کہ زندگی کی ان گتھیوں کو سلجھانے والوں میں سے بہت کم ایسے لوگ ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ لم 83 خدا تعالیٰ کے بے پایاں احسانات اور اس کی لامحدود تخلیقی حکمت کے کس قدر زیر بار ہیں۔اس امر کی مزید وضاحت کیلئے ہم قاری کی توجہ ایک بار پھر انسانی اعضاء کی غیر معمولی پیچیدگیوں کی طرف مبذول کراتے ہیں۔در حقیقت ہر انسان اپنی ذات میں ایک عالم صغیر ہے جو از خود زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ اپنی بقا کیلئے قدم قدم پر لاکھوں منظم حفاظتی اقدامات کا محتاج ہے۔فزیالوجی کے ماہرین نے انسان کے جسمانی نظام میں کارفرما بہت سے ایسے عوامل دریافت کئے ہیں جن کے مقابل پر اگر حفاظتی نظام تشکیل نہ دیا جاتا تو وہ اچانک موت کا باعث ہو سکتے تھے۔ان مشکلات اور چیلنجوں کو دراصل ضرورت سے زیادہ سادہ سمجھ لیا گیا ہے۔زندگی کو در پیش خطرات کے مقابل پر ایک مکمل اور جامع دفاعی نظام کا منصو بہ تیار کرنا اور اس کا نفاذ دراصل اتنا بڑا چیلنج ہے کہ اس کی تحقیق کیلئے سائنسدانوں کی آئندہ کئی نسلیں درکار ہیں۔مثلاً جس محلول میں خلیہ معلق ہوتا ہے اس کے اندرونی حصوں کو اس محلول سے ہمہ وقت خطرہ لاحق رہتا ہے۔قدرت نے نیوکلیس (Nucleus) کوارد گرد موجود پانی کے انجذابی دباؤ سے بچانے کیلئے نہایت مضبوط نظام تیار کر رکھا ہے ورنہ وہ اس دباؤ سے ہی ختم ہو جاتا۔لیکن شکر کے ساتھ ساتھ حسب ضرورت انسولین کو خلیہ کے اندر پہنچانے کیلئے تفصیلی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔علاوہ ازیں کیمیائی رد عمل کے دوران بننے والے فاضل مواد کے اخراج کیلئے بھی ایک کامل نظام موجود ہے۔یہ بات خوب ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اگر خون کے آبی محلول میں موجود خلیات میں محلول کو داخل ہونے دیا جائے تو وہ فورا ختم ہو جائیں۔پانی کے مالیکیولز کے حادثاتی طور پر ان خلیات میں داخل ہونے سے بچاؤ کیلئے چربی کی دو نہیں بہت عمدگی سے تخلیق کی گئی ہیں۔یہ غیر ضروری مادہ