الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 349
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 343 فراہم کیا گیا ہے۔چنانچہ ان کی آکسیجن کی ضرورت بھی ویسے ہی پوری ہو جاتی ہے جیسے ان جانوروں کی جن کے پھیپھڑے ہوتے ہیں۔عمل تخریب کے بغیر محض خوراک کا میسر آجانا بے فائدہ ہے۔روزمرہ کے انسانی تجربہ میں بھی اس عمل کی اہمیت بڑی واضح ہے۔انسان غذا کے بغیر چند ہفتے اور پانی کے بغیر چند دن زندہ رہ سکتا ہے مگر سانس لئے بغیر چند منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔جونہی آکسیجن کی فراہمی ختم ہوتی ہے عمل تخریب بھی ختم ہو جاتا ہے اور تمام خلیات مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔سب سے پہلے دماغ متاثر ہوتا ہے۔آکسیجن کے نہایت مضر اثرات اور ان کے خلاف نہایت مؤثر حفاظتی اقدامات کا ذکر کرنے سے قبل ہم قارئین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آکسیجن زندگی کے ہر عمل کے لئے نہایت ضروری ہے۔قدرت نے توازن قائم کرنے کے لئے جو راستے اختیار کئے ہیں یہ اس کی ایک شاندار مثال ہے۔ہر مفید چیز کے کچھ نقصانات بھی ہوا کرتے ہیں جو اس حد تک ہو سکتے ہیں کہ اگر ان پر قابونہ پایا جائے تو وہ اس چیز کے فوائد کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔یہ نقضاء جو واقعی ایک تضاد ہے زمین پر زندگی کے قیام کیلئے نہایت ضروری ہے۔تخلیق کی یہ کہانی بار بار بے شمار مرتبہ دہرائی جارہی ہے مگر آج تک بے رحمی سے تنقید کرنے والا کوئی نقاد اس داستان میں کوئی معمولی ساستم بھی تلاش نہیں کر سکا۔آکسیجن کے بارہ میں مفصل بحث آئندہ صفحات میں آئے گی۔فی الحال ہم قارئین کی توجہ آکسیجن کی ایک شکل اوزون یعنی (03) کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں۔یہ واحد گیس ہے جس کے مالیکیول میں تین ایٹم ہوتے ہیں۔یہ وہ منفر دخصوصیت ہے جو کسی اور گیس میں نہیں پائی جاتی۔یہ عنصر زندگی کیلئے نہایت ضروری ہونے کے باوجود شدید ملک بھی ہے۔یہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ زمین پر زندگی کی بقا کو اتفاقات کے سہارے پر نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ وہ تمام ضروری اور معین اقدامات کئے گئے ہیں جو نہ صرف زندگی کا سہارا ہیں بلکہ ان عوامل کے مضر اثرات سے بھی زندگی کی حفاظت کرتے ہیں جو اس کی بقا کے لئے ضروری ہیں۔ایک زمانہ تھا جب زمین کی قریبی فضا میں آکسیجن آزاد حالت میں موجود نہیں تھی۔اب تو یہ بات سب کو معلوم ہے مگر جب ہالڈین (Haldane) نے اس حقیقت کا انکشاف کیا تھا تو ان سائنس دانوں میں حیرت و استعجاب کی ایک لہر دوڑ گئی تھی جو ایسے شواہد کی تلاش میں تھے، جن سے۔