الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 348 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 348

342 بقا : حادثه یا منصوبه بندی ؟ ہم ان کے مضر اثرات کا شکار نہیں ہوتے۔یقیناً کوئی ایسا دفاعی نظام موجود ہے جو ان جراثیم کو اندرونی اعضاء تک بآسانی پہنچنے نہیں دیتا اور یوں ہمیں ان سے محفوظ رکھتا ہے۔یہ وہ نظام ہے جو بقا کو یقینی بنانے کے لئے ضرورت کے عین مطابق وضع کیا گیا ہے۔بقا اس نظام کا کوئی حادثاتی نتیجہ نہیں۔اس مختصر سے تعارف کے علاوہ اس مسئلہ کے بیشمار پہلو ہیں۔ہمارا ہر فعل یا ذہن میں آنے والا ہر خیال ہمارے اعصابی نظام میں استعمال شدہ توانائی کے ایسے فاضل مادے چھوڑتا ہے جن کا کوئی فوری بندوبست نہ ہوتو وہ اچانک موت کا سبب بن سکتے ہیں۔چنانچہ زندگی کے ہرلمحہ میں ہم موت سے برسر پیکار ہیں۔” بقائے اصلح کے دراصل یہی معنی ہیں۔یہ صرف اتفاقات کا نتیجہ نہیں ہے۔ہر قدم پر پیش آنے والے بے شمار خطرات سے زندگی کی حفاظت کیلئے نہایت گہرا اور پیچیدہ نظام وضع کیا گیا ہے۔اس کو سمجھنے کے لئے پودوں اور جانداروں کے عمل تحول (metabolism) میں آکسیجن کے کردار کا مطالعہ ایک بہترین مثال ہے۔عمل تحول کی اصطلاح کو آگے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔عمل تعمیر (Anabolism) اور عمل تخریب (Catabolism)۔اینا بولزم سے مراد موجود خوراک سے نئی بافتوں کی تعمیر ہے۔اس کے علاوہ زائد توانائی کو چربی کی صورت میں محفوظ کرنا بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔اس کے برعکس کیا بولتزم ایک ایسا عمل ہے جس کے نتیجہ میں پیچیدہ مالیکیولز ، سادہ مالیکیولز میں بدل جاتے اور توانائی خارج کرتے ہیں۔پیچیدہ مالیکیولز کے اندر زیادہ توانائی ہوتی ہے۔چنانچہ جب یہ مالیکیولز ٹوٹتے ہیں تو توانائی خارج کرتے ہیں۔اس طرح ان کے مجموعی وزن اور کمیت میں جو کمی ہوتی ہے وہ اس توانائی کی صورت اختیار کر لیتی ہے جسے جاندار اپنی بقا کے لئے استعمال کرتے ہیں۔بظاہر عمل تخریب ٹوٹ پھوٹ کا عمل ہے مگر زندگی کے قیام کیلئے نہایت ضروری ہے کیونکہ توانائی کی روزمرہ کی ضروریات اسی ذریعہ۔پوری ہوتی ہیں۔تمام جسمانی حرکات، جذباتی ہیجانات اور ذہنی کاموں کیلئے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے جو عمل تخریب کے ذریعہ ہی مہیا ہوتی ہے۔زندگی کی تمام ادنی شکلوں کو حتی کہ ایسے جانداروں کو بھی جن میں پھیپھڑے اور خون کی نالیاں موجود نہیں سانس لینے کیلئے ایک متبادل نظام