الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 341

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 335 مرکبات کی طرح اس کے ارتقا کا ذکر کیا گیا ہے۔کیونکہ کلوروفل کا کبھی ارتقا نہیں ہوا اور نہ ہی خشکی، ہوا یا سمندر میں اس کے ارتقا کے کوئی آثار ملتے ہیں۔زمین پر زندگی کی ابتداء کے ساتھ ہی کلوروفل کے حامل پودوں نے سورج کی روشنی کو جذب کر کے اسے کیمیاوی توانائی میں تبدیل کرنا شروع کر دیا جس سے غیر نامیاتی مرکبات نامیاتی مرکبات میں بدل گئے۔اس عمل کے دوران ان مرکبات نے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی سے کاربوہائیڈریٹ تیار کیا اور بیک وقت آکسیجن خارج کی جس کا کیمیائی فارمولا یہ ہے: شمسی توانائی C6H12O6+602 کلوروفل کی دو قسمیں ہیں: 6CO2 + 620۔کلوروفل CssHmMgN4O3) A) اور کلوروفل Cs5H70MgN4O6)B) ان فارمولوں کی ترکیب ہیموگلوبن (Haemoglobin) کی ترکیب کی طرح اپنی پیچیدگی میں کچھ کم حیرت انگیز نہیں ہے۔اس میں ہر عصر ایک خاص ترتیب سے اپنے مقام پر موجود ہوتا ہے۔چنانچہ Stenen Rose اپنی تصنیف 'The Chemistry of Life میں یوں رقمطراز ہیں: دم اگرچه کلوروفل ضیائی تالیف (Photosynthetic Pigment) کا واحد ذریعہ نہیں مگر اس کا لازمی جزو ضرور ہے۔۔۔اس کے سالمہ کے قطبی حصہ کا ڈیزائن در حقیقت سائٹو کرومر (Cytochromes) اور ہمو گلوبن (Haemoglobin) کے سالموں کے قطبی حصہ کے ڈیزائن سے ملتا جلتا ہے۔ہیم (Haem) کی طرح اس میں بھی کاربن اور نائٹروجن کی چار کڑیاں ایک دائرے کی صورت میں جڑی ہوتی ہیں جنہیں پائرول رنگز Pyrrole) (Rings کہا جاتا ہے۔یہ میٹھے آٹے کے پیڑے (doughnut) سے مشابہ ہے جس کے درمیان ایک بڑا سا سوراخ ہوتا ہے۔ہیم کا یہ سوراخ لوہے سے جبکہ کلوروفل میں میگنیشیم سے پُر ہوتا ہے۔ان کروی ساختوں میں ترتیب وارا کہری اور دہری کڑیاں ہوتی ہیں اور جب یہ کڑیاں روشنی کی ایک معین اور قلیل مقدار جذب کر لیتی ہیں جس کی اپنی ایک طول موج