الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 332
326 ارتقا میں چکنی مٹی اور ضیائی تالیف کا کردار سے اچانک مفقود ہو گئے۔یہ معمہ ایک لمبے عرصہ تک لایجل ہی رہا اور سائنسدان سمجھ نہ سکے کہ ڈائنا سار کیونکر صفحہ ہستی سے یکسر غائب ہو گئے حالانکہ ان سے بدرجہا کمزور انواع حیات بلا روک ٹوک ارتقائی عمل سے گزرتی رہیں۔آخر کار یہ معمہ اس وقت حل ہوا جب پتہ چلا کہ ساڑھے چھ کروڑ برس قبل ایک بہت بڑے شہاب ثاقب کے سمندر میں گرنے سے زمین کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا تھا جس کے منفی اثرات بالخصوص ڈائنا سار پر پڑے اور اس تبدیل شدہ ماحول میں ان کا زندہ رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا گیا۔جب تک اس بات کا علم نہ ہوا تھا اس وقت تک اس کا تسلی بخش جواب کسی کے پاس نہ تھا کہ ڈائنا سار کے دور کا اختتام اس قدر اچانک کیوں ہوا۔آزاد آکسیجن سے خالی ماحول کی مقابلہ زیادہ آکسیجن والے ماحول میں تبدیلی ایک ایسا ہی واقعہ ہے جیسے ڈائنا سار کا صفحہ ہستی سے کالعدم ہو جانا۔اگر سائنسدان حق پر ہیں تو اس امر کا فیصلہ کہ ہم حقیقت سے کس قدر دور ہیں، مستقبل ہی کرے گا۔اگر سائنسدانوں کی سوچ درست ہے تو بعض ایسے سوالات اٹھ کھڑے ہوں گے جن سے شاید ضیائی تالیف کے موجودہ دور کا وجود ہی مشتبہ ہو کر رہ جائے۔ہمارے ذہنوں میں یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ ضیائی تالیف کے دور کے آغاز کے وقت کیا کیا تغیرات رونما ہوئے۔سائنس دانوں کی عمومی رائے کے مطابق ساری کی ساری آکسیجن مختلف غیر نامیاتی مرکبات مثلا کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) پانی (H2O) اور سیلیکان ڈائی آکسائیڈ (SiO2) سے منسلک تھی۔بالفاظ دیگر نئے سرے سے وجود میں آنے والے حیاتیاتی اجزاء نے اپنی ضرورت کے مطابق آکسیجن خود تیار کی ہوگی۔اس غیر حقیقی نظریہ کو بیان کرنے کے بعد کہ غالبا اس طرح ہوا ہو گا جبکہ ایسا ہونا ممکن نہیں، ہم ضیائی تالیف اور کلوروفل کی حقیقت جیسے اہم موضوع کی طرف لوٹتے ہیں اور کلوروفل سے وابستہ غیر معمولی پیچیدگیوں پر غور کرتے ہیں۔چند ایسے ابتدائی سالموں کا تصور کریں جو ارتقا کے سفر میں آکسیجن سے یکسر خالی قدیم ماحول میں اچانک نمودار ہوئے جنہوں نے آئندہ چل کر کہیں مستقبل میں ہر قسم کی زندگی کا پیش رو بننا تھا۔یہ تصور جتنا خوبصورت ہے اتنا ہی عجیب و غریب بھی ہے جس سے وابستہ بہت سے مسائل اور سربستہ راز ابھی حل ہونا باقی ہیں۔حیات کے ان اولین سالموں کی بقا کے لئے محض