الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 318

312 جنات کا وجود شخص اس قسم کی غیر مرئی اور خورد بینی مخلوق کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس مخلوق کی طرف آنحضرت ﷺ نے اشارہ فرمایا ہے ، عربی زبان میں اس کیلئے جن سے بہتر اور کوئی لفظ نہیں ہے۔ایک اور اہم بات جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے وہ جن کی آگ سے تخلیق کے بارہ میں ہے۔چنانچہ فرمایا: وَالْجَانَّ خَلَقْتَهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ ( الحجر 28:15) ترجمہ: اور جنوں کو ہم نے اس سے پہلے سخت گرم ہوا کی آگ سے بنایا۔یہاں آگ کی اس مخصوص قسم کو بیان کرنے کیلئے جس سے جن پیدا کئے گئے ، سموم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی انتہائی گرم اور اچانک بھڑک اٹھنے والی آگ کے ہیں۔جس سے کوئی دھواں نہیں اٹھتا۔اسی بات کو قرآن کریم نے ایک اور جگہ اس طرح بیان کیا ہے: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَّارِجٍ مِنْ نَّارٍةٌ الرحمن 55 : 16) ترجمہ: اور (اس نے ) جن کو آگ کے شعلوں سے پیدا کیا۔آئیے اس امر کے ثابت کرنے کے بعد کہ جن کا لفظ یہاں بیکٹیریائی قسم کے جانداروں کیلئے مستعمل ہے ہم دوبارہ مذکورہ بالا آیات پر غور کریں جن میں جن کی آگ سے تخلیق کا ذکر ہے۔یوں لگتا ہے کہ جیسے ان آیات کا زیادہ تر اطلاق ان جانداروں پر ہوتا ہو جو اپنی بقا کیلئے آگ کے شعلوں یا خلائی تابکاری شعاعوں (Cosmic Radiation) سے توانائی حاصل کرتے ہیں جس کیلئے سموم کا لفظ بولا گیا ہے۔ڈکرسن (Dickerson) قدیم ترین جاندار حیات کے بارہ میں اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے غیر ارادی طور پر قرآن کریم کی اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ وہ روشنی کی قوت اور بالائے شی (Ultra violate) شعاعوں سے توانائی حاصل کرتے ہوں گے۔2 خلائی تابکاری (Cosmic Radiation) کے تناظر میں زندگی کے آغاز کے بارہ میں دیگر