الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 301

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 295 گئے اور اس مقصد کیلئے مختلف تجربات بھی تشکیل دیئے گئے تا کہ کسی طرح تجربہ گاہ میں ایسے حالات پیدا کئے جائیں جو زندگی کے آغاز میں زمین پر موجود حالات سے ملتے جلتے ہوں جن کی موجودگی میں اربوں سال پہلے حیات سے یکسر عاری بے جان زمین میں نامیاتی جرثوموں کی پیدائش ممکن ہوئی لیکن اس بیان سے پہلے ہم قرآن کریم کی وہ آیات سامنے رکھتے ہیں جن میں زندگی کے آغاز اور ارتقا کا ذکر ہے۔قرآن کریم کی مختلف آیات میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اس کے دو مقاصد ہیں۔اول یہ کہ قرآن کریم کس طرح غیب کے رُخ سے پردہ اُٹھا کر اُسے شہود میں بدل دیتا ہے۔دوم یہ کہ قرآن کریم اس پہلو سے مخفی حقائق کو اس طور سے کھولتا ہے کہ اس علم کے ماہرین کے لئے رہنمائی کا موجب بنے۔سب سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ قرآن کریم عموماً جہاں کہیں بھی تخلیق کا ذکر کرتا ہے انسانی تخلیق کے حوالہ سے ہی کرتا ہے جبکہ اس سے قبل جو کچھ تخلیق ہوا تھا اس سے اس کی کوئی انسانی مشابہت نہیں تھی۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کا بنیادی مقصد انسان کی تخلیق تھا اس لئے یہ امراسی حوالہ سے بیان کیا گیا ہے۔مثلاً ایک ہوائی جہاز کو لے لیں جس کی تکمیل کا عمل کئی مراحل میں سے گزرتا ہے اور بہت سے پرزے درکار ہوتے ہیں۔ڈیزائن کرنے والے کی نظر میں ہر مرحلہ اور ہر پرزہ ( نٹ بولٹ، سے لیکر سیٹوں تک اپنی اپنی جگہ خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن اصل مقصد تو بہر حال جہاز اور اس کی تیاری ہے۔نٹ بولٹ کیل وغیرہ دیگر کاموں میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں لیکن یہاں وہ اصل مقصد یعنی ہوائی جہاز کی تیاری کیلئے ضروری ہو جاتے ہیں۔اس زاویہ نگاہ سے جائزہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہاں قرآن کریم ماہرین حیاتیات سے اختلاف کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ ارتقائی عمل حادثاتی اور محض اتفاقات کا نتیجہ ہے۔ان کے نزدیک زندگی کا آغاز اور ارتقا محض بے مقصد اور لغو ہے ہم یہاں قرآن کریم میں بیان فرمودہ مختلف مراحل کا باری باری مختصر تعارف کرائیں گے لیکن تفصیلی ذکر متعلقہ ابواب میں کیا جائے گا۔یہاں ہم قرآن کریم کے حوالہ سے تخلیق کے اس دور اولین جاندار اجسام کی تخلیق کا ذکر کرتے ہیں جوحیاتیاتی ارتھ سے قبل وجودمیں