الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 277

270 قرآن کریم اور کائنات اس آیت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ خلا میں ایک ایسا مقام ہے جو بالآخر سورج کی آخری قرار گاہ بنے گا۔اگر چہ اس آیت میں صرف سورج کا ذکر ہے لیکن بعد کی آیات میں تمام کائنات کو سورج کی اس حرکت کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے: وَالشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَةٍ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ وَالْقَمَرَ قَدَّرُ لَهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيمِ لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ (41-39:360) ترجمہ: اور سورج (ہمیشہ) اپنی مقررہ منزل کی طرف رواں دواں ہے۔یہ کامل غلبہ والے ( اور ) صاحب علم کی (جاری کردہ) تقدیر ہے اور چاند کے لئے بھی ہم نے منازل مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے۔سورج کی دسترس میں نہیں کہ چاند کو پکڑ سکے اور نہ ہی رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے۔اگر صرف سورج ہی ایک معین سمت میں سفر کر رہا ہے تو اگلی آیت میں یہ بیان نہ ہوتا کہ سورج اور چاند کا باہمی فاصلہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے اور وہ کبھی بھی نہ تو ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور نہ ہی دور جائیں گے۔یہ ایک ایسی تقدیر ہے جس میں ان کے مقررہ وقت تک کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ سورج اور چاند ایک ہی سمت میں سفر کر رہے ہیں۔یہ حرکت صرف ، سورج اور چاند تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کے مطابق تمام اجرام فلکی نہایت خاموشی سے محو سفر ہیں۔نیز بہت سی آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ تمام آپس میں دکھائی نہ دینے والے رشتوں میں وابستہ ہیں۔چنانچہ اگر ان میں سے کوئی اپنا بیضوی مدار چھوڑتا ہے تو باقی بھی باہمی توازن برقرار رکھنے کے لئے اسی کے مطابق حرکت کرتے ہیں: وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (الانبياء 34:21) ترجمہ: اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔سب (اپنے اپنے ) مدار میں رواں دواں ہیں۔