الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 268
قرآن کریم اور کائنات نزول قرآن کے وقت کا ئنات کی ساخت اور اجرام فلکی کے متحرک یا جامد ہونے کے متعلق انسانی تصور بہت مبہم اور قدیم تھا۔مگر اب یہ حالت نہیں۔اب کائنات کے متعلق ہمارا علم کافی ترقی کر چکا ہے اور وسیع ہو چکا ہے۔تخلیق کائنات کے متعلق بعض نظریات کی تصدیق ہو چکی ہے۔اب مسلّمہ حقائق کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں جبکہ کچھ اور نظریات پر ابھی تحقیق جاری ہے۔یہ نظریہ کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے اب سائنسی حلقوں میں ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔سب سے پہلے ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے 1920 کی دہائی میں یہ انکشاف کیا تھا۔مگر اس سے بھی تیرہ سو سال قبل قرآن کریم درج ذیل آیت میں اس کا ذکر واضح طور پر فرما چکا تھا۔وہ والسَّمَاءَ بَنَيْنَهَا بِأَيد وإِنَّا لَمُوسِعُونَ (الذريت (48:51) ترجمہ: اور ہم نے آسمان کو ایک خاص قدرت سے بنایا اور یقیناً ہم وسعت دینے والے ہیں۔یادر ہے کہ ایسی کائنات کا تصور جو مسلسل پھیلتی چلی جارہی ہو صرف قرآن کریم میں ہی مذکور ہے۔کسی اور آسمانی صحیفہ میں اس کا دُور کا اشارہ بھی نہیں ملتا۔سائنسدانوں کے نزدیک یہ دریافت کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے، خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے انہیں کائنات کی تخلیق کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔نیز یہ دریافت تخلیق کائنات کی مرحلہ وار اس طرح وضاحت کرتی ہے جو بگ بینگ (Big Bang) کے نظریہ سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔قرآن کریم اس سے بھی آگے بڑھ کر کائنات کے آغاز، انجام اور پھر ایک اور آغاز کے مکمل دور کو بیان کرتا ہے۔قرآن کریم کائنات کی پیدائش کے پہلے کا جو نقشہ پیش کرتا ہے، وہ ہو بہو بگ بینگ کے نظریہ کے مطابق ہے۔چنانچہ قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں : أوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْهُمَا 261