الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 265

258 البينة ، القيمة تجربہ کا فیصلہ ہی تسلیم کرلے گا۔یہی وہ عام مشترک انسانی تجربات ہیں جو قطعیت کی جانب مسلسل گامزن ہیں۔کسی بھی مخصوص زمانہ کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ یہ انسانی تجربات ہر دور میں تسلیم کئے گئے ہیں۔اس کو اگر قطعیت کی بجائے امکان کہہ لیں تو یادر ہے کہ یہ امکان ہی ہے جس کے ہاتھ میں انسانی تقدیر کی باگ ڈور ہے۔کسی بھی بظاہر نظر آنے والی حقیقت کا انکار محض اس بنا پر نہیں کیا جاسکتا کہ کہیں یہ ستقبل میں غلط ثابت نہ ہو جائے۔اس کے باوجود انسانی علم کے ارتقائی سفر میں اکثر تصورات یقیناً اس حد تک پختگی حاصل کر لیتے ہیں کہ ان میں نہ تو تغیر وتبدل کا امکان باقی رہ جاتا ہے نہ کسی شک وشبہ کا۔اسی طرح بہت سے طبیعی اور کیمیاوی قوانین بعینہ اسی طرح سے کام کرتے رہتے ہیں جس طرح سے انہیں آغاز کار میں سمجھا گیا تھا۔ان کی کارکردگی کے کسی حصہ سے ہماری لا علمی ان کے بارہ میں ہمارے دریافت شدہ علم کو غلط ثابت نہیں کر دیا کرتی۔اس حقیقت کے باوجود کہ اجرام فلکی اور کشش ثقل میں نت نئی اور بار یک دریافتوں سے ہمارے علم میں بہت گہری تبدیلیاں آچکی ہیں نیوٹن کے قوانین بنیادی طور پر جوں کے توں ہیں۔پس اجرام فلکی سے متعلق قوانین حرکت اپنے مخصوص دائرہ کار میں پہلے کی طرح آج بھی قطعی ہیں۔اسی طرح ایٹم کے ذیلی ذرات کے قوانین حرکت بھی اپنے عالم صغیر میں قطعی ہیں۔پس اجرام فلکی کے عالم کبیر کے قوانین حرکت اور ایٹم کے عالم صغیر کے قوانین حرکت کے مابین نہ کوئی تضاد ہے اور نہ ہی اختلاف۔اگر چہ ان کا میدان اور دائرہ کار الگ الگ ہے۔انسان اب تک اتنا ہی جان سکا ہے کہ نیوٹن کے قوانین حرکت کا اطلاق صرف کائنات کے عالم کبیر پر ہوتا ہے۔انسان خواہ سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے ان قوانین کی ہر دو اقسام قطعی ہیں اور آزادانہ طور پر کام کر رہی ہیں۔پس مطلق حقیقت محض انسانی ذہن کی پیداوار نہیں بلکہ یہ فی ذاتہ موجود ہے۔اب ہم قرآن کریم کے اس موقف کی طرف لوٹتے ہیں جو عقلیت اور عقلیت کے مذہبی حقائق سے تعلق پر روشنی ڈالتا ہے۔ہم قاری کی توجہ مندرجہ ذیل آیات قرآنی کی طرف مبذول کراتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی تخلیق کردہ کائنات میں کسی بھی تضاد کے امکان کو کلمبیا رد کرتی ہیں: مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ