الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 266

الهام ، عقل ، علم اور سچائی هَلْ تَرَى مِنْ قَطوَرٍ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيره ( الملك 4:67-5) 259 ترجمہ: تو رحمن کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔پس نظر دوڑا۔کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے؟ نظر پھر دوسری مرتبہ دوڑا۔تیری طرف نظر نا کام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہاری ہوگی۔اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ الہامی کتب میں کوئی تضاد نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خدا کا قول ہے۔(83:4,23:21) خدا کا قول جو ایک الہامی سچائی ہے اور خدا کا فعل جو مادی کائنات ہے، دونوں میں کامل ہم آہنگی لازمی ہے۔پس الہام الہی کبھی بھی قوانین قدرت سے متصادم نہیں ہوسکتا کیونکہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہی حکیم ازلی کی ذات ہے۔تضاد کی یہ مطلق نفی عقلیت کے عالمگیر اصول کا مزید اثبات ہے۔چنانچہ سائنس کی درست تشریح اور قول خداوندی باہم متصادم نہیں ہو سکتے۔لہذا جہاں کہیں بھی ان دونوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے وہاں ان کی سچائی کی قطعیت شک و شبہ سے بالا ہو جاتی ہے۔اب ہم مذکورہ بحث کی روشنی میں منطق اور معقولیت کے حوالہ سے وحی قرآنی کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیں گے۔