الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 264 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 264

الهام ، عقل ، علم اور سچائی۔257 علاوہ ازیں محض ان ابتدائی تصورات کی بدولت ہی انسان یقین کے مرتبہ تک نہیں جا پہنچا بلکہ کئی اور امور کو بھی حتمی قرار دیا جا سکتا ہے باوجود اس کے کہ وہ ان سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور الجھے ہوئے ہیں۔طبیعیات اور کیمیا کی آج کی ترقی یافتہ معلومات اس قسم سے تعلق رکھتی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علوم ترقی پذیر ہیں مگر بالعموم ان کی ترقی انسان کے سابقہ تجربات سے ٹکرائے بغیر جاری ہے۔تبدیلی اگر کہیں ہے تو وہ فروعی نوعیت کی ہے۔بے یقینی کا عنصر ثابت شدہ حقائق پر اثر انداز نہیں ہوتا۔اس کا اثر تحقیق کے مخصوص دائروں تک ہی محدود ہوتا ہے۔اس لئے بلاتر در یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کم از کم سیکولر نقطۂ نظر سے انسانی تجربہ میں قطعیت کا تصور نہ صرف موجود ہے بلکہ یقینا یہ ایک ترقی پذیر مل ہے۔لیکن اعتقاد اور ایمان کے معاملہ میں اس قسم کے دعوی کا کوئی جواز نہیں۔عام اہل ایمان کیلئے حقیقت اور وہم کے درمیان امتیاز اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔کیونکہ وہ بچپن ہی سے اپنے عقیدہ کے گہوارہ میں پرورش پاتے ہیں اور خود اس نظام کا ایک جز ولا نیفک بن چکے ہوتے ہیں۔ان میں سے معدودے چند جن کی اس ذہنی سستی اور بے ہوشی کی نیند سے آنکھ کھل جاتی ہے انہیں اپنے اپنے عقیدہ سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں جس کا اظہار وہ عوام الناس کے سامنے کم ہی کیا کرتے ہیں۔وہ اس نام نہاد ظاہری چولہ کو بدستور پہنے رکھتے ہیں تا کہ کم از کم ان کی مذہبی شناخت قائم رہ سکے۔بد قسمتی سے ہر اس مذہب کا یہی انجام ہوا کرتا ہے جو اعتقادات کی صحت کو پر کھنے کے لئے عقل کے کردار کی نفی کرتا ہے۔بے یقینی سے یقین اور یقین سے قطعیت کے سفر میں بدقسمتی سے بعض فلاسفر قطعیت کے تصور سے ہی منکر ہو بیٹھے ہیں۔ان کے خیال میں کوئی بھی تفہیم ہمہ وقت بدلتے ہوئے حالات اور ذہنی کیفیات کے زیر اثر قطعی طور پر مطلق نہیں ٹھہر سکتی۔اگر اس منطق کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ ہر چیز کو امکانی طور پر غلط سمجھ کر اس کے وجود سے انکار کر دیا جائے۔ظاہر ہے کہ اس قسم کے فلسفہ کے نتیجہ میں روز مرہ کی زندگی تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گی۔مثلاً اگر کسی شخص کو ایک عمودی اور بلند و بالا چٹان نظر آ رہی ہو تو یہ فیصلہ کیسے کیا جائے گا کہ وہ چٹان حقیقتا وہاں موجود ہے بھی یا نہیں ؟ اسی طرح وہ کونسا معیار ہے جس سے یہ پتہ چلے کہ ایک مہلک سانپ جو کسی کا راستہ روکے کھڑا ہے وہاں ہے بھی یا نہیں؟ زندگی میں درپیش ایسے تمام خطرات کے وقت بڑے سے بڑا شکی مزاج بھی عام انسانی