الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 248

الهام ، عقل ، علم اور سچائی وَمَا أَدْرِيكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ثُمَّ مَا أَدْرَكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ (الانفطار 82: 18-19 ) ترجمہ: اور تجھے کیا بتائے کہ جزا سزا کا دن کیا ہے۔پھر تجھے کیا بتائے کہ جزا سزا کا دن کیا ہے۔الْحَاقَّةُ مَا الْحَاقَّةُ نْ وَمَا أَدْرِيكَ مَا الْحَاقَّةُ ) ( الحاقه 2:69-4 ترجمہ : لازماً واقع ہونے والی۔لازماً واقع ہونے والی کیا ہے؟ اور تجھے کیا سمجھائے کہ لازماً واقع ہونے والی کیا ہے؟ سَأَصْلِيْهِ سَقَرَ وَمَا أَدْريكَ مَا سَقَرُة ( المدثر 27:74-28) ترجمہ: میں یقینا اسے سفر میں ڈالوں گا۔اور تجھے کیا سمجھائے کہ سنقر کیا ہے؟ 243 واقعہ یہ ہے کہ یہ دشواری خدا تعالیٰ کو نہیں، انسان کو لاحق ہے جس کے حواس کی رسائی بہت محدود ہے۔مثال کے طور پر جب کوئی انسان پانچ میں سے دو حواس سے محروم ہو تو وہ کسی بھی شے کی صفات کو محسوس نہیں کر سکے گا۔مثلاً بہرا آواز کی حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکتا اور نا بینا بینائی کے تصور سے قاصر ہے۔لیکن سن سکنے اور دیکھ سکنے والے ان لوگوں کو اپنے تجربات کی روشنی میں ایک حد تک کچھ نہ کچھ سمجھانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں جو ان صلاحیتوں سے محروم ہیں۔اسی طرح جب قرآن کریم انسان کو آخرت کے بارہ میں متنبہ کرتا ہے کہ اس کی حقیقت انسانی فہم سے بالا ہے تو انسان کی قلت فہم کی نشاندہی مقصود ہے نہ کہ خدائی بیان کی کمزوری۔اس میں یہ اشارہ مضمر ہے کہ آخرت میں ہمارے حواس میں بعض نئے حواس کا اضافہ بھی ہو گا۔آخرت کے بارہ میں ہمارا موجودہ علم زیادہ سے زیادہ ویسا ہی ہے جیسا کہ کسی نابینا کا روشنی کے بارہ میں۔پس اے انسان! تجھے کیسے سمجھایا جائے کہ آخرت کیا ہے؟ ہمارے حواس میں اضافہ کی صورت میں دنیوی زندگی کے تجربات کے حوالہ سے ہماری سوچ یکسر بدل جائے گی۔ہمارا خیال ہے کہ ہم محبت کی کیفیت کو جانتے ہیں نیز یہ کہ ہم رنج کی