الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 249 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 249

244 ایمان بالغيب حقیقت سے بھی بخوبی آشنا ہیں۔لیکن انسان یہ سوچ کر کانپ اٹھتا ہے کہ جب آخرت میں محبت کی ماہیت اور رنج کی اصلیت اس پر کھلے گی تو وہ کیسی ہوگی؟ چنانچہ قرآن کریم جنت کی واضح تصویر کشی کے باوجود ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نہ کسی آنکھ نے اسے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے کبھی ویسا سنا۔اسی طرح جہنم کے بارہ میں واضح بیان کے باوجود قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ ” اے انسان! تجھے کیسے سمجھایا جائے کہ جہنم کی آگ کیا ہے؟“ انسان جس قدر غیب کے مضمون پر غور کرتا ہے اسی قدر نئے امکانات ابھرنے لگتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مخفی حقائق کے انکشاف کیلئے انسان ہمیشہ وحی کا محتاج رہے گا۔ہمارے حواس کا محدود ہونا ہماری جستجو کی راہ میں حائل نہیں ہے۔حواس کی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھی جو کچھ ہم محسوس کر سکتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہم سے مخفی ہے۔”ایمان بالغیب سے جو بھی مراد لیں اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ سرے سے کچھ موجود ہی نہیں۔یہ کہنا کہ کچھ بھی موجود نہیں گویا ایمان بالغیب کی نفی ہے۔تحقیق کے لامتناہی سفر میں یہ آیت مومنین کیلئے ایک رہنما بن جاتی ہے۔ان کیلئے نہ تو کوئی خلا ہے نہ عدم۔فقط پردے ہیں جو علم کے خزائن پر سے اٹھنے کو تیار ہیں۔ہم اپنے علم پر کتنے ہی نازاں کیوں نہ ہوں علم گل سے اسے اتنی نسبت بھی نہیں جتنی رائی کو پہاڑ سے ہے۔زمین پر موجود پہاڑی سلسلے تو لا محدود نہیں۔لیکن علم کے جن پہاڑی سلسلوں کا ذکر یہاں چل رہا ہے وہ ازلی ابدی کچھ کا وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں جن کی نہ تو ابتدا ہے نہ ہی انتہا۔اس اعلان سے کسی تحقیق کرنے والے کی حوصلہ شکنی مقصود نہیں۔ہاں اس میں یہ پیغام ضرور مضمر ہے کہ انسان جو علم بظاہر اپنی کاوش سے حاصل کرتا ہے دراصل اس کے پس پردہ خدا تعالیٰ کا اذن اور فضل کار فرما ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے اذن اور مرضی کے بغیر کوئی بھی انسانی جستجو اور کوشش بار آور نہیں ہو سکتی۔حصول علم کی انسانی کوشش مناسب حد تک اور مناسب وقت پر اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب یہ کوشش تخلیق کے الہی منصوبہ کے حسب حال ہو۔اگر چہ مادی تحقیق کے میدان میں ترقی کیلئے وحی کی براہ راست ضرورت نہیں ہوتی تاہم اللہ تعالیٰ کے اذن اور منظوری کی مہر اس پر ثبت ضرور ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ حواس خمسہ کی جو