الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 241
236 ایمان بالغیب ایمان لے آئے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ مذاہب کے بہت سے پیرو کار اپنے عقائد کو صیح طور پر سمجھے بغیر ہی ایمان لے آتے ہیں۔وہ فقط اعتقا در رکھتے ہیں اور بس۔یہ وہ اشکال ہے جو ایمان اور عقل کے تقابلی جائزہ اور ان کے باہمی تعلق کی نوعیت کے تعین کا متقاضی ہے۔اس کتاب میں یورپی فلسفہ کے باب میں چونکہ اس موضوع پر سیر حاصل بحث موجود ہے لہذا ہم کوشش کریں گے کہ کسی غیر ضروری تکرار سے اجتناب کریں۔یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ لفظ غیب کا وسیع تر مفہوم معلوم کیا جائے۔اولاً واضح رہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ممکن ہے کچھ اشیاء پردہ غیب میں موجود ہوں اور بعد میں کسی وقت انسانی تحقیق یا الہام الہی کے سبب سے عالم غیب سے عالم شہود میں آجائیں۔غیب کا لفظ اپنے وسیع تر معنوں میں ان تمام اشیاء کیلئے استعمال ہوتا ہے جو بصارت یا سماعت کی رسائی سے باہر ہیں۔اسی طرح اس میں وہ سب اشیاء بھی شامل ہیں جو حواس خمسہ کی حدود سے باہر ہوں۔اس پہلو سے ہم غیب سے مراد وہ عالم بھی لے سکتے ہیں جو انسان کے حواس خمسہ کی رسائی سے باہر ہیں۔اس زمرہ سے تعلق رکھنے والی چیزیں ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہی حواس خمسہ کی رسائی سے باہر ہوں بلکہ ان کا انسانی پہنچ سے باہر رہنا ایک محدود مدت کیلئے ہوتا ہے۔محسوس اشیاء کی تمام مخفی خصوصیات خواہ وہ ماضی سے متعلق ہوں یا حال یا مستقبل سے، علم غیب ہی کے زمرہ میں آتی ہیں۔بالفاظ دیگر ہم سے ان باتوں پر ایمان رکھنے کا تقاضا کیا جاتا ہے جن کا اگر چہ ایک معینہ مدت تک علم تو حاصل نہیں کیا جا سکتا لیکن وجود ضرور رکھتی ہیں اور کسی اور وقت پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔ایسے ایمان کو اندھا اعتقاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔قرآن کریم مومنوں سے ہرگز کسی ایسی بات پر ایمان لانے کا تقاضا نہیں کرتا جو قطعی دلائل پر مبنی نہ ہو۔پس غیب کے لفظ کا اطلاق انہی اشیاء پر ہوتا ہے جن تک عقل و دانش، دلائل اور استخراجی منطق کے توسط سے رسائی ممکن ہو۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس تعریف کی رو سے اگر چہ غیب“ حواس خمسہ کی براہ راست پہنچ سے باہر ہے تا ہم اس کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے۔اس مدلل قرآنی موقف کی انسانی تجر بہ بھی پورے طور پر تائید کرتا ہے۔