الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 240
ایمان بالغیب هدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (البقرة 3:2-4) ترجمہ : ہدایت دینے والی ہے متقیوں کو۔جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔جیسا کہ مندرجہ بالا آیات میں مذکور ہے ایمان بالغیب اسلامی تعلیمات کا بنیادی جزو ہے۔لیکن جیسا کہ گزشتہ باب میں بڑی وضاحت سے بیان کیا جا چکا ہے قرآن کریم عقل و دلائل پر مبنی کتاب ہے جو انسانی فکر کو جبر واکراہ سے بدلنے کی ہر کوشش کی مذمت کرتی ہے۔لہذا مندرجہ بالا آیت کی کوئی بھی ایسی تشریح اسلامی تعلیمات سے متصادم ہوگی جس کا مفہوم یہ ہو کہ ایمان بالغیب کی تعلیم کے ذریعہ قرآن کریم اندھے اعتقاد کو فروغ دیتا ہے۔حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔قرآن کریم تو بلا جواز اور بلا ثبوت اندھی تقلید کو کافروں کا خاصہ قرار دیتا ہے اور مومنوں کے خیالات کو بدلنے کیلئے کافروں کی طرف سے جبر کے استعمال کی مذمت کرتا ہے۔ایمان بالغیب کی اصطلاح سے آخر کیا مراد ہے؟ اس سوال کا پوری طرح جائزہ لینا ضروری ہے۔ایمان بالغیب کا اس پہلو سے بھی بغور مطالعہ ضروری ہے کہ یہ قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا حقیقی مفہوم نہ سمجھنے کے نتیجہ میں سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں جیسا کہ قرون وسطی کے مسلمان علماء کے درمیان مختلف متنازع مسائل پر بحثوں کے دوران ہو چکا ہے۔بعض کثر علماء عقیدہ کے معاملہ میں عقل کے استعمال کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ان کے نزدیک الہامی سچائی اپنی ذات میں کافی ہے اور اسے بلا تحقیق قبول کر لینا چاہئے۔اس نظریہ سے اختلاف رکھنے والے قرآن کریم کی وہ آیات پیش کرتے ہیں جن میں تاکید کی گئی ہے کہ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت ہر مرحلہ پر عقل کے تقاضوں کو مد نظر رکھنا چاہئے اور اندھے اعتقاد پر عقل کو ترجیح دینی چاہئے۔لیکن آخر ایمان ہے کیا ؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص پوری تسلی کئے بغیر ہی کسی بات پر 235