الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 224

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 219 ہو کر وحی کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر دیتی ہے۔مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات کے بارہ میں کوئی بھی قبل از وقت سوچ نہیں سکتا۔ایسے الہامات کی صداقت کا دراصل مقصد یہ ہے کہ بعد میں آنے والے لوگ بھی اس کی سچائی کی تصدیق کر سکیں جن کی ترقی یافتہ سوچ ان کی صداقت کو پر کچھ سکتی ہے۔تاہم کسی تجزیہ نگار کے لئے نفسیاتی تجربات اور وحی الہی کے مابین فرق کرنا کچھ ایسا مشکل بھی نہیں۔اب ہم وحی الہی پر مبنی ایک ایسی پیشگوئی کا ذکر کرتے ہیں جو اگر چہ اپنے ہم عصروں کے بارہ میں ہے لیکن مستقبل کے لوگوں کو چونکا دینے کا عنصر بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔اس کی وضاحت مصر کے بادشاہ کے اس معروف خواب کے حوالہ سے کی جاسکتی ہے جس کی تعبیر بعد میں حضرت یوسف علیہ السلام نے اس وقت بیان فرمائی تھی جب وہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق ایک جھوٹے الزام کی پاداش میں جیل میں سزا کاٹ رہے تھے اور یہ خواب ان کے سامنے بیان کیا گیا تھا۔یہ ایک عجیب خواب تھا جس نے شاہی دربار کے دانشوروں کو چکرا کر رکھ دیا تھا۔لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کو اس خواب میں منفی پیغام کے سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔چنانچہ مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات نے اس دانشمندانہ تعبیر کی تصدیق کر دی۔بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ غلہ کی سات سبز و شاداب بالیاں ہیں اور سات خشک بالیاں۔نیز یہ بھی دیکھا کہ سات دبلی پتلی گائیں سات موٹی گائیوں کو کھا رہی ہیں۔جب بادشاہ نے یہ خواب تعبیر کے لئے درباریوں کو سنایا تو انہوں نے اسے ایک مہمل، بے معنی اور پراگندہ خواب قرار دیا۔بادشاہ کا ایسا خادم بھی جو حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ قید کاٹ چکا تھا اس موقع پر موجود تھا۔اس نے جیل میں ایک عجیب خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے یوں کی تھی کہ وہ جلد رہائی پا کر ایک بار پھر اپنے آقا یعنی بادشاہ کی خدمت کا موقع پائے گا۔اس امید پر کہ حضرت یوسف علیہ السلام بادشاہ کے خواب کی بھی صحیح تعبیر کریں گے اس نے درخواست کی کہ اسے حضرت یوسف علیہ السلام سے ملنے کی اجازت دی جائے۔