الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 225
220 الهام کی حقیقت اجازت ملنے پر اس نے جیل جا کر بادشاہ کا خواب حضرت یوسف علیہ السلام کو سنایا جنہوں نے فورا ہی خواب کا مفہوم سمجھ لیا اور اس کی واضح اور منطقی تعبیر فرمائی۔واپس آکر خادم نے بادشاہ کو حضرت یوسف علیہ السلام کی بیان کردہ تعبیر یوں سنائی: آئنده سات سالوں میں اللہ تعالیٰ کی برکات اچھی بارشوں کی صورت میں نازل ہوں گی جس کے نتیجہ میں فصلیں اور پھل بہترین پیداوار دیں گے۔بہترین پیداوار کے ان سات سالوں کے بعد خشک سالی کے سات سال آئیں گے جن میں شدید قحط پڑے گا۔اگر ان پہلے سات سالوں کی وافر فصل میں سے ان سخت سالوں کی ضرورت پورا کرنے کے لئے کچھ بچایا نہ گیا تو شدید قحط کا۔سامنا کرنا پڑے گا۔اس تعبیر سے بادشاہ بہت متاثر ہوا۔چنانچہ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کی فوری رہائی کے احکام جاری کر دیئے۔لیکن آپ نے مطالبہ کیا کہ جب تک منصفانہ تحقیقات کے ذریعہ جھوٹے الزامات سے ان کی بریت نہ ہو جائے وہ جیل میں رہنے کو ترجیح دیں گے۔آپ صرف اس وقت جیل سے باہر آنے پر رضا مند ہوئے جب اصل مجرم نے اقبال جرم کر لیا اور آپ کو تمام الزامات سے باعزت طور پر بری قرار دیدیا گیا۔بادشاہ کی طرف سے آپ کی غیر معمولی طور پر عزت افزائی کی گئی اور آپ کو اس کی حکومت میں وزیر خزانہ و اقتصادیات بنا دیا گیا۔خواب میں پہلے سے بتائے گئے تمام واقعات حیرت انگیز طور پر حضرت یوسف علیہ السلام کی بیان کردہ تعبیر کے عین مطابق وقوع پذیر ہوئے جس کی وجہ سے نہ صرف مصریوں کو ہلاکت سے بچایا گیا بلکہ ہمسایہ ممالک کے رہنے والے اور اسی طرح خانہ بدوش قبائل بھی قحط سالی کی تباہ کاریوں سے بچ گئے۔نیز انہی واقعات کے نتیجہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کی اپنے بچھڑے ہوئے خاندان سے دوباہ ملاقات کی صورت بھی پیدا ہوگئی۔ایسے خواب کو جو بعد میں سچا ثابت ہوا یہ کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا کہ یہ کسی بسیار خور کے ذہنی انتشار کا نتیجہ ہے۔لیکن یادر ہے کہ اس خواب کی تعبیر ایک یوسف ہی کر سکتا ہے۔اس مثال سے یہ امر بخوبی واضح ہو جانا چاہئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک با مقصد اندرونی نفسیاتی نظام جاری فرما رکھا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک معین اور با مقصد پیغام کی ترسیل سے عالم غیب کا