الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 221
216 الهام کی حقیقت نہایت سادہ معقول اور منطقی انداز میں بیان فرمایا ہے۔تاہم اس میں مخفی معانی سرسری نظر سے سمجھ میں نہیں آ سکتے۔اگر چہ یہ ایسے پیچیدہ بھی نہیں تاہم پہلے سے قائم کردہ رائے کے زیر اثر اس کا مطالعہ کرنے والوں کو مغالطہ بھی لگ سکتا ہے۔یہاں ہم قرآن کریم کی روشنی میں اس معجزہ کی وضاحت کرتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: قَالَ الْقُوا فَلَمَّا الْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُو بِسِحْرِ عَظِيمٍ وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الاعراف 7 : 117-119 ترجمہ: اس نے کہا تم پھینکو۔پس جب انہوں نے پھینکا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور انہیں سخت ڈرا دیا اور وہ ایک بہت بڑا شعبدہ لائے۔اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ تو اپنا سونٹا پھینک۔پس اچانک وہ اس جھوٹ کو نگلنے لگا جو وہ گھڑ رہے تھے۔پس حق واقع ہو گیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے جھوٹا نکلا۔یہاں قرآن کریم ایک ایسے واقعہ کا ذکر فرماتا ہے جس میں فرعون کے جادو گروں کو ان رسیوں پر نہیں بلکہ تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کرتے بیان کیا گیا ہے۔یہ دراصل مناسس کے عمل کی وضاحت ہے جو قانون قدرت کے مخالف نہیں۔مسمریزم کی اس شعبدہ بازی اور جادوگروں کے سحر کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی کے ذریعہ اپنی قدرت کا جلوہ دکھایا۔یادر ہے کہ قرآن کریم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ عصائے موسیٰ نے رسیوں کو بیچ بیچ نگلا نہیں تھا بلکہ ساحروں کے اس اثر کو توڑا تھا جس کے نتیجہ میں رسیاں سانپ دکھائی دے رہی تھیں۔یہی واقعہ ایک اور سورۃ میں مندرجہ ذیل طریق پر بیان ہوا ہے جس سے بات مزید واضح ہو جاتی ہے: قَالَ بَلْ الْقَوْا فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُوسَى قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلَى (69-67:20) ترجمہ: اس نے کہا بلکہ تم ہی ڈالو۔پس اچانک ان کے جادو کی وجہ سے اسے خیال دلایا گیا کہ