الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 214
الہام کی حقیقت الہام کیا ہے؟ کیا یہ محض ایک اصطلاح ہے جو انسانی ذہن کی شعوری اور تحت الشعوری کا ئنات کی تحقیق اور دریافت کے عمل کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے یا اس کا منبع کوئی خارجی وجود ہے جس کا علم انسانی علم پر غالب ہے۔الہام پر ایمان رکھنے والوں میں بھی اس کی حقیقت کے بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔مثلاً بدھ ازم، کنفیوشن ازم اور تاؤ ازم کے عصر حاضر کے پیروکاروں کا خیال ہے کہ ان کے مذہبی پیشواؤں کے علم کا منبع ان کا شعور (conscious) یا تحت الشعور (subconscious) ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ سچائی ہر روح کے اندر فطرتا موجود ہے۔ان کے نزدیک القاء اس ابدی صداقت کے سرچشمہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا ذریعہ ہے جبکہ دیگر مذاہب کے مطابق الہام ایک خارجی وجود یعنی ازلی ابدی اور کامل حکمت والے خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔اگر ہم اپنی تحقیق کے دائرہ کو اور وسیع کر دیں تو معلوم ہوگا کہ مذاہب کی شہادت کے علاوہ بھی الہام کے بہت سے مستند شواہد ملتے ہیں۔مثال کے طور پر بعض سائنسدانوں کے ہاں الہام کے ذریعہ پیچیدہ مسائل کا حل معلوم کرنے کے بہت سے دلچسپ واقعات ملتے ہیں۔1865ء میں ایک جرمن دوا ساز ( کیمسٹ) فریڈرک آگوسٹ کیکولے Friedrich) (August Kakule علم کیمیا سے متعلق ایک ایسے مسئلہ کے حل میں کوشاں تھا جس نے تمام محققین کو پریشان کر رکھا تھا۔ایک رات اس نے خواب میں ایک سانپ کو اپنی دم اپنے منہ میں پکڑے دیکھا۔اس خواب نے اس کی رہنمائی صحیح سمت میں کر دی اور بالآخر اس نے اس الجھے ہوئے مسئلہ کا حل معلوم کر لیا۔اس طرح اس راز کا انکشاف ہوا کہ بعض نامیاتی مرکبات میں مالیکیولز کا کیا کردار ہے۔یہ ایک ایسی تحقیق تھی جس نے نامیاتی کیمیا کے سمجھنے میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔فریڈرک کیکولے نے اس خواب کی یہ تعبیر کی کہ بینزین (Benzene) کے سالمے میں کاربن کے ایٹم دائرے کی شکل میں موجود ہیں۔اس علم کے نتیجہ میں بہت ترقی یافتہ ترکیبی نامیاتی کیمیا 209