الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 207
الهام ، عقل ، علم اور سچائی لیکن پریس (Preuss) یہ شک کرنے میں شاید حق بجانب تھا کہ سبب اول جیسا تجریدی 201 خیال، ان قدیم لوگوں میں زندگی سے بھر پور ہستی کا اس قسم کا تصور پیدا کیسے کر سکتا ہے ؟7 ہووٹ ( Howitt) کی طرح گریبنر (Graebner) بھی اس نظریہ کی کھل کر حمایت کرنے سے ہچکچا رہا ہے کہ قدیم آسٹریلیوی باشندوں کو ایک اعلیٰ ترین ہستی کی صفات کا از خود ہی کیونکر علم ہو گیا۔دراصل اس طرح اس کا اپنا الحاد کھل کر سامنے آگیا ہے۔آسٹریلیا کے بعض قبائل میں ایک برتر خدا کے تصور کے ساتھ ساتھ اس کے بیوی بچوں کے فرضی قصے کہانیاں بھی ملتے ہیں۔اس سے ہمارے اس دعوی کے متعلق کوئی شک پیدا نہیں ہوتا کہ ان لوگوں میں پایا جانے والا خدا کا تصور دیگر تو حید پرست مذاہب میں پائے جانے والے تصور سے مختلف نہیں ہے۔ان روایات کو بیان کرنے والے جن محققین نے یہ دریافت کیا ہے کہ اس قسم کی اساطیر بہت عمومیت کے ساتھ ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں، انہوں نے ان اساطیر کے بعض پہلوؤں کو خاص طور پر اجا گر بھی کیا ہے جن کی وجہ سے قاری ان میں اور خدا تعالیٰ کے تصور میں جس سے وہ متعلق ہیں بآسانی فرق اور تمیز کر سکتا ہے۔قدیم آسٹریلیا کے دیو مالائی قصوں اور باقی دنیا میں پائے جانے والے دیو مالائی قصوں کو ایک جیسا قرار نہیں دیا جا سکتا۔باقی دنیا میں ہر جگہ بت پرست مذاہب کے یہ قصے دیوتاؤں کے تصور کے ارد گرد بنے جاتے ہیں جبکہ قدیم آسٹریلوی باشندوں میں نہ تو ان دیوتاؤں کی پرستش کی جاتی ہے اور نہ ہی تعظیم و تقدیں۔ماہرینِ عمرانیات کے بیان کردہ قصے کہانیاں لازماً آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کے خدا تعالیٰ کے تصور پر مبنی نہیں ہیں۔اور صرف چند قبائل میں ان اساطیر کی موجودگی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تمام قدیم آسٹریلوی قبائل کے عقائد کی ترجمانی نہیں کرتیں۔ان قصے کہانیوں کی طرف نہ تو کوئی تخلیقی قوت منسوب کی جاتی ہے اور نہ ہی وہ ازلی ابدی ہونے میں خدا کے شریک ہیں۔چونکہ وہ ازل سے نہیں ہیں اس لئے وہ سب کے سب مخلوق ہیں اور نہ ہی انہوں نے خود کبھی کوئی چیز پیدا کی۔غالب امکان یہی ہے کہ یہ بے سروپا روایات بعد میں ان کے بعض مذہبی رہنماؤں نے گھڑ لی تھیں۔اس ضمن میں ایلیاد (Eliade) مغربی آراندا (Aranda) کے ایک قبیلہ کی مثال دیتے