الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 202
198 آسٹریلیا کے قدیم باشندوں میں خدا کا تصور معلومات ہی حاصل کر پائے ہیں۔مغربی محققین نے جس انداز سے آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کے خوابوں کا نقشہ کھینچا ہے اس پر ان صاحب نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔4 یہاں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کا ذکر مناسب ہوگا جس میں سچے خواہوں کو نبوت کا چالیسواں حصہ قرار دیا گیا ہے۔اگر چہ گہرا مشاہدہ بتاتا ہے کہ بچے خواب ہی ہیں جن سے نبوت کی شروعات ہوتی ہیں جو بالآخر الہام الہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں تاہم اگر خدا تعالیٰ چاہے تو ملہم کو نبوت کے منصب پر سرفراز فرما دے۔مغربی محققین کے اخذ کردہ نتائج کی روشنی میں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ سب کے سب قدیم آسٹریلوی باشندوں کے روحانی تجربات کے متعلق منفی رویہ نہیں رکھتے۔ان میں بعض اہل بصیرت اور یہ تسلیم کرنے کی جرات رکھنے والے بھی موجود ہیں کہ قدیم آسٹریلوی قبائل کا ایک واحد اور مقتدر بالا راده خدا پر ایمان تھا۔اینڈریولینگ (Andrew Lang) نے اپنی کتاب The Making of Religion میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قدیم آسٹریلوی باشندے واقعی خدا تعالیٰ پر یقین رکھتے تھے۔اور چونکہ All Fathers کے بارہ میں بہت کم اساطیری قصے ملتے ہیں اس لئے لینگ (Lang) یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہے کہ ایک برتر خدا کا عقیدہ پہلے سے موجود تھا اور یہ فرضی کہانیاں بعد میں گھڑی گئیں۔جرمنی کے ایک رومن کیتھولک پادری پیٹرولیم شمٹ (Peter William Schmidt) نے 1912 اور 1925 کے درمیان بارہ جلدوں پر مشتمل کتاب Usprung der Gottesidee جس میں اس نے لینگ کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ اساطیری قصہ خدائے برتر کے تصور کے بعد پیدا ہوا ہے۔شمٹ کا تحقیقی کام سب سے پہلے 1908 اور 1910 کے درمیان ایک فرانسیسی رسالہ Anthropos میں شائع ہوا جس کا بانی خود شمٹ تھا۔اس کتاب کا ایک ایڈیشن لکھی "L'origine de Dieu۔Etude Historico - Critique et Positive۔Premiere "Partie۔Historico Critique کے نام سے 1910 ء میں وی آنا سے شائع کیا گیا۔1926 میں جرمن زبان میں اس کی دوسری مفصل اشاعت ہوئی۔اس میں شمٹ اساطیر اور مذہب میں