الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 199

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 195 سمجھا ہے۔یہ متقین جس امر کو قدیم باشندوں کے خواب دیکھنے کی عادت گردانتے ہیں، یہ قدیم باشندے خود اس کے متعلق یہ نظریہ نہیں رکھتے۔مجھے آسٹریلیا کے ایک صاحب علم لیڈر سے مل کر آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کے خوابوں کی حقیقت معلوم کرنے کا موقع ملا ہے۔یہ امر اس لئے بھی اہم ہے کہ آسٹریلیا کے پرانے قبائل کے متعلق قریباً سارے مغربی لڑ یچر میں خوابوں کا ذکر ملتا ہے۔یہ صاحب جن سے میری بات ہوئی ایک غیر قوم کے شخص سے اپنے عقائد پر گفتگو کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔اس لئے ان کو اس گفتگو پر آمادہ کرنے کیلئے مجھے خاصی کوشش کرنا پڑی۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بہت سے غیر ملکیوں نے جو ان قبائل کی زندگی اور تاریخ پر تحقیق کر رہے تھے ان کے عقائد کو غلط سمجھا اور پھر ان عقائد کو غلط طریق پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔بہر حال ہم دونوں میں باہمی اعتماد کی فضا قائم ہو گئی تو میں نے ان کی باتوں سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کئے۔ان کے نزدیک خدا تعالیٰ خوابوں کے ذریعہ اپنے بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے۔خوابوں کے ذریعہ انہیں اپنی زندگی کے بہت سے اہم واقعات پر قبل از وقت اطلاع دی جاتی ہے۔ان کے ہاں مذہبی رہنماؤں کا باقاعدہ ایک درجہ بدرجہ نظام موجود ہے جو تعبیر الرؤیا کا علم رکھنے والوں پر مشتمل ہوتا ہے۔یہ رہنمانہ تو بیرونی لوگوں سے کوئی رابطہ رکھتے ہیں اور نہ ہی غیر قوم کے کسی شخص کو ان تک رسائی ہوتی ہے۔جب خواب تعبیر کیلئے ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں تو خواب دیکھنے والے کو اکثر یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کے خواب میں کیا پیغام مضمر ہے لیکن تعبیر کرنے والا اس پیغام کو سمجھ لیتا ہے اور بالعموم اس کی تعبیر درست نکلتی ہے۔بعد میں رونما ہونے والے واقعات تعبیر کرنے والے کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خوابوں کے نظام کی سچائی بھی ثابت ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایک طرف تو ان کے مذہبی عقائد اور عبادات ہیں اور دوسری طرف ان کی غیر اہم رسمیں اور تو ہمات ہیں۔ان دونوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ہر قبیلہ کے تو ہمات اور رسومات الگ الگ ہوتی ہیں اور ان میں کوئی قدر مشترک نہیں پائی جاتی۔خوابوں کا معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے۔خدائے واحد پر ایمان کی طرح وہ سب کے سب خوابوں کو آسمانی رہنمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔انہیں اکثر خواب بیحد اہم معاملات پر غور و خوض کے بعد آتے ہیں۔چنانچہ بعید نہیں کہ یہ غور و خوض دعا ہی کا