الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 185
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 181 حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ ہمیشہ پھسل کر بت پرستی کے قعر مذلت میں جا گرے گا۔اور یہ وہ مقام ہے جہاں شرک کے جراثیم پروان چڑھتے ہیں۔قرآن کریم نے اس سلسلہ میں ایک اور مثال مکہ میں موجود بیت الحرام کی دی ہے یعنی اللہ کا وہ گھر جسے حضرت ابراہیم نے خالصہ تو حید کے قیام کیلئے تعمیر کیا تھا لیکن بتوں کو خدا کے اس عظیم گھر میں دوبارہ داخل ہونے میں زیادہ دیر نہ لگی۔نام کے علاوہ اس کی ہر شے تبدیل کر دی گئی۔بالآخر 360 بت اس پر قابض ہو گئے جن میں سے ہر ایک بت قمری سال کے ایک دن کی نمائندگی کرتا تھا۔خانہ خدا کے درودیوار بتوں سے بھر گئے یہاں تک کہ ان بتوں کیلئے تو اس میں جگہ تھی لیکن جگہ نہیں تھی تو صرف خدا کے لئے۔کیا ماہرین عمرانیات اسی ارتقائی عمل کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔کیا بقول ان کے اسی طریق پر بت پرستی ترقی کرتے کرتے خدائے واحد کے تصور میں ڈھل گئی؟ کیا واقعی انسان نے ادنی ذہنی حالت سے ترقی کرتے کرتے اعلیٰ ذہنی حالت کو پا کر ہستی باری تعالیٰ کا تصور تخلیق کیا ؟ ہرگز نہیں۔تاریخ مذاہب بیک زبان ماہرین عمرانیات کے اس یک طرفہ نتیجہ کو مسترد کرتی اور واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ عقیدہ توحید کا اصل ماخذ تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے اور یہ اسی کی عطا ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہوتا کہ لوگ بت پرستی کرتے کرتے تدریجا خدائے واحد کے تصور تک پہنچ جائیں۔اگر عقیدہ توحید شرک کے ارتقا کا نتیجہ ہوتا تو تاریخ مذاہب لازماً اس کی تصدیق کرتی۔لیکن مذاہب عالم کی مسلّمہ تاریخ میں اس کا نشان تک نہیں ملتا۔ہوتا یہ ہے کہ موحد تو دھیرے دھیرے تنزل کا شکار ہو کر مشرک معاشروں کی صورت اختیار کر جاتے ہیں لیکن اس کے برعکس صورت کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔نیک لوگوں کیلئے یہ امر انتہائی مشکل ہے کہ وہ لمبے عرصہ تک کے لئے آنے والی نسلوں میں اپنی نیکی بطور اور منتقل کر جائیں۔چنانچہ ان میں ایک لمبے عرصہ تک اپنے آبا ؤ اجداد کی پر ہیز گاری قائم رکھنے کا عمل شاذ کا حکم رکھتا ہے۔پہلی نسل جو روشنی کو براہ راست دیکھ چکی ہو اس کی بھاری اکثریت کبھی بھی جہالت کی طرف نہیں لوٹتی تاہم بعد کی نسلوں میں ایمان بتدریج کمزور پڑتا چلا جاتا ہے۔ایسا اچانک نہیں ہوتا بلکہ یہ تنزل کا ایک ایسا طویل اور ست رفتار عمل ہے جس کا آغاز انبیاء