الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 175

سیکولر نقطہ ہائے نظر کا تجزیہ ماہرین عمرانیات کے نزدیک مذہب کا ارتقا اور ہستی باری تعالیٰ پر ایمان کا نظریہ بنیادی طور پر معاشرتی نفسیات پر مبنی ہے۔انسان کے معاشرتی رویہ میں اس عمومی رجحان کے مشاہدہ کے بعد انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان ہر اس چیز کا احترام کرتا ہے جس سے وہ خوفزدہ ہو اور ہر اس چیز کے بارہ میں جسے وہ پسند کرتا ہو یا جس کی اسے احتیاج ہو محتاط اور مؤدب رویہ اختیار کرتا ہے۔ان ماہرین کی سوچ معاشرتی نظام میں کارفرما ” کچھ لو کچھ دو کے محرکات کے حوالہ سے مذہبی عقائد تک ممتد ہو جاتی ہے اور اس میں خوف اور طمع کے عناصر بھی شامل کر لیتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ عہد قدیم کا انسان جبکہ وہ ابھی حیوان نما انسان سے انسانیت کی طرف صرف ایک قدم ہی آگے بڑھا تھا اس کے سادہ ذہن کو گردو پیش کے مناظر نے پریشان اور مبہوت کر رکھا تھا اور جب بھی اس نے مختلف پیچیدہ سوالات کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی تو وہ ان اشیاء کی صحیح ماہیت کا احاطہ کرنے میں ناکام رہا۔انسان کے ابھرتے ہوئے شعور کی جھلملاتی روشنی میں عجائبات فطرت نے اس کے ترقی پذیر شعور کو اس قدر متاثر کیا کہ اس نے مظاہر قدرت کو کسی مافوق الفطرت ہستی کے ایسے کرشمے تصور کر لیا جو اس کے فہم و ادراک سے بالا ہونے کے باوجود اس کی زندگی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔نتیجه انسان نے انہی مظاہر قدرت کو دیوتا قرار دے دیا۔سیلابوں اور طوفانوں کی تباہ کاریاں دیکھ کر وہ اس خوف سے ان کے آگے سجدہ ریز ہو گیا کہ کہیں وہ اسے بھی تباہ و برباد نہ کر دیں۔اسی طرح اس نے دن کی روشنی اور سورج کی تخلیقی قوتوں کا مشاہدہ کر کے اپنے تخیلاتی دیوتاؤں کے بارہ میں بھی نفع رساں ہونے کا تصور قائم کر لیا۔ان مظاہر کو قدرت کے آئینہ میں منعکس ہوتے دیکھ کر انسان نے ان میں سے کسی کے بارہ میں خوفناک ہونے اور کسی کے بارہ میں مشفق ہونے کا تصور قائم کر لیا۔اس طرح اس نے قدرت کے خوفناک مظاہر مثلاً مدوجزر کے ان 171