الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 176

172 سيكولر نقطه هائی نظر کا تجزیه سمندری طوفانوں اور بادو باراں کو اپنا دشمن سمجھ لیا جو اپنے بعد بجلی کی چمک اور کڑک اور سیلاب کے ریلے چھوڑ جاتے ہیں۔خطرناک جانور بھی اس دائرہ سے باہر نہ رہ سکے۔شیر، چیتے ، سانپ ، بچھو اور دیگر خطرناک جنگلی جانور بھی حصہ رسدی ان تصوراتی خداؤں اور طاغوتی طاقتوں کے زمرہ میں آشامل ہوئے۔اس کے برعکس فطرت کے جمالی مظاہر مثلاً زندگی بخش بارش لانے والی مرطوب ٹھنڈی ہوائیں اور باد شمیم میں اسے مہربان دیویوں کا فیض نظر آیا۔دور اول کے انسان نے اپنی دقیانوسی سوچ کی بنا پر ان مظاہر فطرت کو دیوتا یا دیوتاؤں کے ایسے کارندے شمار کر لیا جو مختلف مزاج ، انداز اور خصوصیات کے مالک تھے۔اس کے یہ تصوراتی دیوتا اس کی عقیدت کے حقدار تھے ورنہ اسے ڈر تھا کہ وہ ان کے غیظ و غضب کا نشانہ نہ بن جائے یا ان کی عنایات سے محروم نہ ہو جائے۔فلکیاتی عجائبات مثلاً سورج، چاند اور ستارے اپنے طلسمی جھرمٹوں سمیت رفتہ رفتہ اس کے انتہائی احترام کے مستحق ٹھہرے۔اس طرح دیوتاؤں کے بارہ میں اس کے تصورات ارتقائی منزلیں طے کرنے لگے اور درجہ بندی شروع ہو گئی۔ان میں سے کچھ اعلیٰ اور کچھ ادنی قرار پائے۔آج ہم قدیم انسان کی ضعیف الاعتقادی پر گو لاکھ تنقید کریں لیکن ماہرین عمرانیات کی رائے ہے کہ ابتدائی انسان کی یہ سادہ لوحی اس کے مبہم اور غیر ترقی یافتہ ذہنی صلاحیتوں کا فطری نتیجہ تھی۔مختصراً، اکثر ماہرین عمرانیات کا مذہب کی ابتدا اور ارتقا کے بارہ میں یہی خیال ہے۔پھر وہ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ اس قدیم طرز فکر کا ارتقا بالآخر خدائے واحد کے نظریہ پر منتج ہوا اور اس بات پر مصر ہیں کہ خدائے واحد کا تصور دراصل بہت سے خداؤں پر اعتقاد کے نتیجہ میں ہی تدریجا ظہور پذیر ہوا ہے۔لیکن تو حید کے اس نظریہ نے مشرکانہ خیالات کو بالکل ختم نہیں کیا۔دونوں تصورات بیک وقت موجود رہے اور ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی سخت اور مشکل کشمکش سے دو چار رہے۔مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ کئی مذاہب منصہ شہود پر ابھرے اور مختلف نظریات فروغ پاتے گئے۔ایک خدا کی عبادت بھی ہوتی رہی اور بہت سے دیوتا بھی پوجے جاتے رہے۔جہالت کی بنا پر انہیں یہ احساس تک نہ ہوا کہ وہ محض اپنے ہی تصورات کی پوجا کر رہے ہیں۔نیز یہ کہ لوگوں ہی نے دیوتا گھڑ لئے ہیں، خدا تعالیٰ نے انہیں پیدا نہیں کیا۔اس طرح ایک سیدھا سادا فرسودہ