الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 162

160 دکھ اور الم کا مسئله جیسا کہ گاڑی کے دو پیسے کہ اگر ایک کو الگ کر دیں تو دوسرا بھی بیکار ہو کر رہ جائے گا اور یوں گاڑی کا تصور ہی ختم ہو جائے گا۔موت و حیات کے مابین یہی کشمکش جو تکلیف کو جنم دیتی ہے، خوشی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔یہی بنیادی محرک ارتقا کی گاڑی کو ہمیشہ آگے بڑھنے کی قوت مہیا کرتا ہے۔ارتقا کی طویل تاریخ میں پائی جانے والی بیماریوں کی مختلف وجوہات بالواسطہ یا بلا واسطہ ارتقائی تبدیلیوں سے ہی متعلق تھیں۔ماحولیاتی تبدیلیاں، بقا کی جدوجہد، تغیر اور حادثات، سب نے اکٹھے یا الگ الگ اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔یعنی بیماریاں، نقائص اور کمزوریاں بھی ترقی پر اثر انداز ہونے میں اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔یوں جانوروں کی مختلف انواع بظاہر لاشعوری طور پر، مگر دراصل ایک رہنما اصول کے تحت شعور کے اعلیٰ مدارج کی طرف ارتقا پذیر ہوتی رہی ہیں۔اب ہم ایک اور منصوبہ کا جائزہ لیتے ہیں جس میں ایک مفروضہ کے تحت تکلیف کے عصر کو یکسر ہٹا دینا مقصود ہے۔بالفاظ دیگر زندگی کی تمام حالتوں کو لازمی طور پر کسی تکلیف کے بغیر خوشی میں برابر کا حصہ ملنا چاہئے۔مقصد یہ ہے کہ شاید اس طرح ہم تکلیف کو ختم کر کے زندگی کو ایڈا سے بچا سکیں۔تب مطلق مساوات قائم ہو جائے گی اور سب برابر کی سطح پر کھڑے ہو جائیں گے۔لیکن اس منصو بہ کو کیسے اور کہاں متعارف کروایا جائے۔مشکل یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی ہم ارتقا کے طویل سلسلہ میں اس منصو بہ کو متعارف کروانے کی کوشش کریں گے ہمیں لازماً بعض لا نخل مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔افسوس کہ یا تو اس نئے منصوبہ کے اصولوں کو ابتدائے آفرینش سے متعارف کروانا ہوگا یا اسے سرے سے ترک کرنا پڑے گا۔اس قسم کی مطلق مساوات کا اطلاق خواہ کسی بھی سطح پر کیوں نہ کیا جائے، لا نخل تضادات کو جنم دے گا۔اس کے لئے ہمیں زندگی کے نقطۂ آغاز کی طرف لوٹنا ہوگا۔ہمیں حیات کی تاریخ میں بالکل وہاں لوٹ جانا ہوگا جہاں سے زندگی کی ابتداء ہوئی اور ارتقا کی سیڑھی کو از سرنو زینہ بہ زینہ تعمیر کرنا ہوگا۔مگر انتہائی کوشش کے باوجود ہم پہلے مرحلہ پر ہی رک جائیں گے اور ایک قدم بھی آگے بڑھنے کے قابل نہ ہوں گے کیونکہ خوشی کی مساوی تقسیم اور تکلیف کی کل یا عدم موجودگی ارتقا کی قوت رفتار کو بالکل ختم کر دے گی۔چنانچہ نہ تو بقا کیلئے کوئی جدوجہد ہو گی اور نہ ہی کوئی انتخاب طبعی اور بقائے اصلح کے اصولوں کا نفاذ۔اور زندگی کی خام حالت سے ترقی کی طرف ایک قدم بھی نہیں اٹھایا جا سکے گا۔