الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 157
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 155 ہے کہ وہ مجسم خیر ہو بلکہ وہ مجسم خیر ہے۔وہ بدوں خیر کے اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔لہذا برائی ہمیشہ سفلی سطح پر سے ہی پھوٹتی ہے اور خدا تعالیٰ کو ان کی بداعمالیوں کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔سقراط کا یہ جواب بالکل سیدھا سادہ تھا لیکن اس پر فلسفیانہ رنگ میں ایسے اعتراضات اٹھائے جا سکتے تھے جن کے نتیجہ میں وہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا۔ایران کے زرتشتی مفکرین چونکہ اس جواب سے مطمئن نہیں تھے اس لئے انہوں نے اس مسئلہ کی بنظر غائز مزید تحقیق کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر شریر کون تھے اور کس نے انہیں پیدا کیا۔اگر خدا تعالیٰ ہی نے انہیں پیدا کیا ہے تو وہی ان کی بد اعمالیوں کا ذمہ دار بھی ٹھہرتا ہے۔یوں زرتشتی دانشوروں نے اس کے بالمقابل ایک اور خالق کا وجود تراش لیا۔ایک کو نیکی کا اور دوسرے کو بدی کا دیوتا قرار دے دیا گیا۔دونوں کو اپنے اپنے دائرہ کار یعنی نور اور ظلمت میں بلا شرکت غیرے خود مختار سمجھ لیا گیا۔ضمنا یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر چہ حضرت زرتشت کے تمام پیروکار اس نام نہاد زرتشتی عقیدہ محویت کی اندھی تقلید نہیں کرتے ، کچھ زرتشتی خواہ وہ ایک قلیل تعداد ہی میں کیوں نہ ہوں بڑے شدومد سے توحید کا دفاع کرتے ہیں۔یہ یقینی امر ہے کہ اسلام نے فارس میں داخل ہونے پر بیشتر موحدین کو پورے زور سے اپنی طرف کھینچ لیا۔یادر ہے کہ معنویت اور آگ کی پرستش کے عقیدہ سے قطع نظر زرتشتی مذہب دیگر تمام مذاہب کی نسبت اسلام سے قریب ترین ہے۔زرتشتی مذہب میں خدا یعنی اہورا مزدا Ahura Mazda) انہی صفات اور اصطلاحات کا حامل ہے جن کا تصور دیگر بڑے بڑے مذاہب میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ اہرمن کو قربانی کا بکرا بنا کر تمام برائیوں اور تکالیف کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔اور یوں بزعم خود زرتشتی مفکرین نے اس مصیبت سے تو چھٹکارا پا لیا لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہو سکا۔عین ممکن ہے کہ ان کے ہمعصر سقراط نے بھی اس عقیدہ کے بارہ میں سنا ہو یا خود اس پر غور کیا ہو۔بہر حال اس نے اسے یکسر رد کر دیا اور پوری وفاداری کے ساتھ عقیدہ توحید کا قائل رہا۔اگر چہ زرتشتیوں کے اس عذر نے بظاہر ایک گتھی کو تو سلجھا دیا لیکن ایک اور مشکل مسئلہ کھڑا کر دیا۔اس مسئلہ کی طرف تو ہم بعد میں آئیں گے لیکن سردست یہ کہنا کافی ہوگا کہ برائی یا بدی فی ذاتہ ایسا وجود نہیں رکھتی جس کا پیدا کیا جانا ناگزیر ہو۔در حقیقت نیکی کی عدم موجودگی ہی بدی کا دوسرا نام ہے۔یہ حقیقت روشنی اور سایہ کی