الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 142
142 کنفیوشن ازم اس کی نیکی وسیع اور ہمہ گیر تھی جسے بیان کرنے کے لئے لوگوں کے پاس اس کے شایان شان الفاظ نہیں تھے۔“ 9 بالفاظ دیگر اس کی صفات نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ کچھ اس عمدگی سے اختیار کر لیا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔Chang نے کہا: ” کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ یہ ہوا کیسے کہ پہلے Yasu نے Shun کو آسمان یعنی خدا کی خدمت میں پیش کیا اور آسمان نے اسے قبول کیا اور پھر اس نے اسے لوگوں پر ظاہر کیا اور لوگوں نے اسے قبول کیا۔“ 10 یہ آیات اس بات کی خوب وضاحت کر دیتی ہیں کہ آسمان سے مراد یہ کائنات نہیں اور نہ ہی انسان کے اندر کا عالم صغیر مراد ہے بلکہ اس سے مراد وہ مد بر بالا رادہ اور باشعور ہستی ہے جس کا دوسرا نام خدا ہے۔جس طرح اللہ تعالی ابدال کو اس وقت منتخب فرماتا ہے جب وہ ایک خاص معیار پر پورا اترتے ہیں انبیاء کا انتخاب بھی اللہ تعالیٰ بالکل اسی طریق پر کرتا ہے۔اوپر پیش کئے گئے حوالہ جات سے ہمارا یہ نقطۂ نظر بڑی عمدگی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ چینی بزرگوں کو انہی صفات کا حامل خیال کیا جاتا ہے جو بائیمیل اور قرآن کریم میں مذکور انبیاء میں پائی جاتی تھیں۔کنفیوشس کی تحریرات کا تفصیلی مطالعہ اس بات کو مزید واضح کر دیتا ہے کہ الہام نہ صرف زندگی کے حقیقی فلسفہ کے اظہار کا ذریعہ تھا بلکہ روزمرہ کی زندگی میں انسانی اعمال کی صحیح سمت میں رہنمائی بھی اسی کی مرہون منت تھی۔قبل ازیں گوشی Fu isi) کے کشف اور عملی صورت میں چینی تہذیب کے کئی شعبوں میں اس کے اثر کا ذکر کر چکے ہیں جو کئی ہزار سال تک قائم رہا۔ذیل میں ہم کچھ اور مثالیں پیش کرتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ الہام نے ایک قوم کی مادی خوشحالی اور ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے: وو جب بادشاہ کلام کرتا ہے تو اس کے کلمات احکام کی صورت اختیار کر لیتے ہیں لیکن اگر وہ خاموش رہے تو وزراء کیلئے احکام حاصل کرنے کی کوئی صورت نہیں رہتی۔بادشاہ نے اس موقع پر ایک تحریر لکھوائی اور انہیں مطلع کیا کہ چونکہ میرا فرض ہے کہ سلطنت کے اندر جو کچھ ہے اس کی حفاظت کروں اور مجھے اندیشہ تھا کہ میری نیکی میرے پیش روؤں کے برابر نہیں ہے