الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 141

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 141 مندرجہ بالا حوالہ جات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کنفیوشن ازم کوئی انسانی فلسفہ نہیں ہے بلکہ بنیادی طور پر یہ ایک ایسی خالق اور قائم بالذات ہستی کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس کی تعظیم اور اطاعت فرض ہے۔مزید برآں اس بات کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ اس ہستی کی تلاش اور اس کے احکام کی بجا آوری کے بغیر محض علم کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔علاوہ ازیں درج ذیل حوالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کنفیوشن ازم خدا (یا آسمان ) کو ایک ایسی ہستی کے طور پر پیش کرتا ہے جو بنی نوع انسان کی بھلائی اور ترقی میں بھر پور دلچسپی رکھتی ہے۔بنی نوع انسان کی رہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے انتخاب کے ذریعہ صداقت کو دنیا میں قائم کرتا ہے جو اس منصب کے اہل ہوں۔چینی بزرگوں کو قرآن یا بائیل میں مذکور انبیاء کے برابر سمجھا جا سکتا ہے یعنی وہ لوگ جو خدا کے نمائندے یا پیامبر ہیں۔اس مشابہت کا ذکر کنفیوشس سے منسوب درج ذیل بیان میں ملتا ہے: Kwang میں عظیم استاد کو خوف دامنگیر ہوا تو انہوں نے فرمایا ” کیا King Wan کی موت کے بعد حق کو پھیلانے کی ذمہ داری مجھے نہیں سونپی گئی تھی ؟ اگر آسمان سچائی کے اس مشن کی تباہی چاہتا تو میرے جیسے فانی کا اس مشن کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوتا۔اب جبکہ آسمان کو اس مشن کی تباہی مقصود نہیں ہے تو K'wang اور اس کے باسی میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔؟ یہاں کنفیوشس کامل یقین سے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غیر مبدل فیصلے کے باعث یہ امر یقینی ہے کہ بیچ بالآخر کامیاب ہوگا اور وہ خود تو اس الہی فیصلے کے محفوظ ہاتھوں میں محض ایک آلہ کار کی حیثیت رکھتا ہے۔خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس سے براہ راست ہدایت یافتہ لوگ اپنے مشن یعنی حق کے قیام کی تکمیل کے بغیر تباہ کر دیئے جائیں خواہ وہ انتہائی طاقتور مخالفت کے مقابل پر تنہا ہی کیوں نہ کھڑے ہوں۔بعینہ یہی تصویر بائیبل اور قرآن نے انبیاء کی پیش کی ہے۔ایسے کاموں کے اہل وہی لوگ ہوا کرتے ہیں جو خدا کی صفات کو اپنانے میں سب پر سبقت لے جاتے ہیں۔کنفیوشس نے کہا: Yaou ایک فرمانروا کے طور پر یقینا عظیم تھا۔لیکن اصل عظمت آسمان یعنی خدا تعالیٰ ہی کو حاصل ہے اور صرف Yaou ہی تھا جس نے اس سے اپنا تعلق استوار کیا۔