الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 131

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 131 جہاں تک ہندومت اور بدھ مت میں ہو گا فلسفہ کا تعلق ہے دونوں مذاہب کلیڈ اپنی اپنی روایتی تعلیم سے دور چلے گئے ہیں یہاں تک کہ ان میں بنیادی تعلیم کا نشان تک نہیں ملتا۔حضرت بدخہ کی روشن خیالی کا ذریعہ تو الہام تھا لیکن بعد کے زمانہ میں وجدان، غور وفکر اور مراقبہ نے الہام کی جگہ لے لی۔تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اوائل میں بدھ مت کی تعلیمات ہندومت کی تعلیمات سے بالکل مختلف تھیں لیکن بعد میں ہوگا کی فلاسفی اور عملی طریق میں دونوں مذاہب ایک ہو گئے۔حیرت کی بات ہے کہ یوگا کی تعلیمات کا ذکر پہلی دفعه مزعومہ مذہبی دستاویز سنتز اس ( Tantras) میں ملتا ہے جو حضرت بدھ کے پانچ سو سال بعد مرتب ہوئی۔یہ دستاویزات صرف اونچے درجہ کے مذہبی رہنماؤں کیلئے مخصوص تھیں اور عام لوگوں سے سخت قسم کی رازداری میں رکھی جاتی تھیں۔اس راز کو مزید چھپانے کیلئے ان دستاویزات میں ایسی پیچیدہ زبان اور اصطلاحات استعمال کی گئی تھیں جو عام لوگوں کی سمجھ سے بالا تھیں۔کافی عرصہ بعد جب تنتر اس تک محققین کی رسائی ہوئی تو وہ اس کا متن دیکھ کر حیران رہ گئے کیونکہ یہ مزعومہ مقدس دستاویزات نہایت گندی اور غیر اخلاقی داستانوں سے بھری ہوئی تھیں۔ان میں بھوت پریت اور شیطانی وجودوں کا ذکر ملتا ہے۔علاوہ ازیں ان میں نہایت مخش زبان میں شہوات اور جنسی تعلقات کا ذکر اس انداز سے کیا گیا ہے جس سے ایک شریف انسان کو شدید دھچکا لگتا ہے۔اس لحاظ سے تنر اس میں پائی جانے والی یوگا کی تعلیم کا بدھ کے پاک کلام سے دور کا بھی تعلق نہیں۔عین ممکن ہے کہ عفریتوں اور شہوات کا ذکر محض علامت کے طور پر ہو۔موجودہ زمانہ کے پنڈتوں میں سے شاید کوئی بھی اس پیچیدہ اور خفیہ زبان کو سمجھ نہ سکے۔غالباً دو ہزار سال پہلے بدھ مت کے ان مذہبی پیشواؤں نے ان پیچیدہ اصطلاحات کو ایجاد کیا اور وہی ان کے معانی سے واقف تھے۔لیکن ان کو گزرے ہوئے مدت ہو چکی اور تنتر اس کا زمانہ بھی ان کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔تاہم تنتر اس کی پیچیدہ زبان کے باوجود یوگا آج بھی زندہ ہے اور ایسے بہت سے ماہرین اب بھی موجود ہیں جو تنر اس میں مذکور ہو گا“ کی اس پوشیدہ سائنس کو سمجھتے ہیں اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ہندومت اور بدھ مت میں پائے جانے والے یوگا کے تصور اور اس پر عملدرآمد کے طریق میں واضح تفریق کرنا مشکل کام ہے۔ان میں چھوٹے چھوٹے اختلافات محض اصطلاحات کی حد