الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 126
126 بدھ مت احترام دل کی گہرائیوں سے کرتے اور رفتہ رفتہ غیر محسوس طریق پر ملحد قرار دیئے جانے والے اس محبوب اور دانشمند استاد کا احترام خدا کی مانند کیا جانے لگا۔مذہب کی تاریخ میں ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ پروہتوں اور بعض دیگر انسانوں کو دیوتاؤں کا مقام دے دیا جائے۔لہذا حضرت بدھ کے تعلق میں ان کے پیروکاروں کی تمام تر محبت اور توجہ ان پر ہی مرکوز رہی جنہیں وہ انسانی حسن کا ایک کامل نمونہ سمجھتے تھے۔اساطیری داستانوں کی طرح حضرت بدھ کو روایتی دیوتا تو نہیں بنایا گیا مگر ان کیلئے یہی کافی تھا کہ وہ اپنے عقائد کی ایک انتہا پر برہمن کو اور دوسری پر حضرت بدھ کو جگہ دیں۔ان کے نزدیک برہمن کسی دیو مالائی وجود کے نمائندہ اور حضرت بدھ سچائی ، دانشمندی اور قلندی کا مجسم نمونہ تھے۔چنانچہ بدھ مت نے تدریجا ایسی شکل اختیار کر لی جس میں کسی فرضی خدا کے تصور کی کوئی گنجائش نہ تھی۔فطرت انسانی میں موجود ایمان باللہ کی خواہش نے رفتہ رفتہ حضرت بدھ کو اس مقام پر فائز کر دیا۔چنانچہ چوتھی صدی میں حضرت بدھ نے دانشوری کے سرچشمہ کی حیثیت سے جس سفر کا آغاز کیا اس کی وجہ سے وہ اپنے مانے والوں کی نظر میں عام لادینی فلسفیوں کی نسبت بہت بلند مقام پر فائز ہو گئے اور جلد ہی عام دانشمندی کی علامت سے ت سے بالاتر عزت و احترام کے اس مقام کو پا لیا جو مذاہب عالم میں خدایا دیوتاؤں کیلئے خاص ہے۔یہاں ہم صرف چند سالوں کی بات نہیں کر رہے ہیں۔بدھ مت پر الحاد کا منحوس سایہ پڑنے میں صدیاں لگ گئیں۔اسی طرح حضرت بدھ کو خدا کا نام دیئے بغیر خدا کا مقام دینے میں بھی اُن کے پیروکاروں کو صدیاں لگی ہوں گی۔جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے حضرت بدھ کے ماننے والوں میں رفتہ رفتہ ایسی تبدیلی آتی گئی جس کے نتیجہ میں وہ ایمان باللہ سے آہستہ آہستہ دور ہوتے چلے گئے اور بالآخر خدا کے وجود کا ہی انکار کر بیٹھے۔اور یہ محض ایک اندازہ نہیں بلکہ بدھ مت کے بغور مطالعہ کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ حضرت بدھ موحد تھے اور انہوں نے شرک کو مستر د کر دیا تھا۔یہ تاثر مخالفین کی انتہائی کوشش کے باوجود پہلی تین صدیوں تک بڑی شان و شوکت کے ساتھ قائم رہا۔اب ہم قاری کی توجہ اس دور کی طرف مبذول کراتے ہیں جب عظیم بادشاہ اشوکا نے سلطنت کے وسیع وعریض خطہ پر ، جو ہندوستان سے افغانستان تک پھیلا ہوا تھا، حکومت کی۔اشوکا