الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 125 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 125

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 125 اس حوالہ سے حضرت بدھ واسیتا کی دعا اور خواہش کو رد نہیں کرتے۔یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جو کچھ حضرت بدھ نے خدا اور اس کے پیاروں سے تعلق کے بارہ میں فرمایا تھا وہ بیچ تھا۔وہ لوگ جو ذات پات کی تمیز کے بغیر خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہیں، ان پر خدا تک پہنچنے کی راہ آسان کر دی جاتی ہے۔جس شخص کے دل میں خوف خدا ہو وہ غصہ حسد، بغض اور دیگر نفسانی خواہشات سے مغلوب نہیں ہوتا۔اس کے بعد ہی انسان خدائی صفات کو اپنا سکتا ہے۔خدا کے بارہ میں حضرت بدھ کا عقیدہ جاننے کیلئے یہ گفتگو نہایت اہم ہے۔پھر حضرت بدھ کو ان کے ماننے والوں نے غلط کیوں سمجھا ؟ اس سوال کا جواب غالباً بدھ مت کی ابتدائی تاریخ سے مل سکتا ہے جب نئے ابھرتے ہوئے بدھ مت کا ٹکراؤ برہمن مذہب کی قدیم روایات سے ہوا۔ممکن ہے کہ اس وقت حضرت بدھ کے ماننے والوں نے اپنے پرانے خیالات جان بوجھ کر ان کی طرف منسوب کر دیئے ہوں یا وہ ان کی تعلیم کے بارہ میں دیانتدارانہ طور پر غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہوں۔جب حضرت بدھ نے برہمنوں کی مروجہ بت پرستی کے خلاف آواز اٹھائی تو ان پر الحاد کا الزام لگایا گیا۔بااثر برہمنوں نے یہ تحریک اس زور سے چلائی کہ اس شور و غوغا میں حضرت بدھ کی آواز دب کر رہ گئی۔رسل و رسائل کی مشکلات اور لکھنے کی سہولتیں میسر نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بعید نہیں کہ اس تحریک کا اثر ہندوؤں کے ساتھ ساتھ خود حضرت بدھ کے پیروکاروں پر بھی ہوا ہو اور انجام کار وہ اس بات پر یقین کرنے لگے ہوں کہ حضرت بدھ نے ہندو دیوتاؤں کو یکسر مستر د کر دیا ہے۔چنانچہ یہ تاثر عام ہو گیا کہ حضرت گوتم بدھ نے ہندو دیوتاؤں کا انکار کیا ہے اور اکثر لوگ انہیں ملحد سمجھنے لگے۔البتہ ان کے ماننے والوں کی اطاعت میں کوئی فرق نہ آیا۔وہ حضرت بدھ کو ایک شفیق، محبت کرنے والا ، نرم دل، کامل اور انتہائی دانشمند استاد مانتے تھے۔ہم اس زمانہ کی بات کر رہے ہیں جب خواندگی بہت ہی کم تھی۔لوگ اکثر سنی سنائی باتوں پر فیصلے کیا کرتے تھے۔اس لئے عین ممکن ہے کہ حضرت بدھ کے ماننے والے بھی اس تحریک کی رو میں بہہ گئے ہوں۔لیکن اس سے ان کی وفاداری میں کوئی فرق نہ آیا۔ان کیلئے حضرت بدھ کا عقل کل ہونا ہی کافی تھا۔وہ ان کا