الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 124
124 بدھ مت ہے مصنف اسے سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح بعض محققین ان بدھ بھکشوؤں کے عقائد سے متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے حضرت بدھ کی اپنے زمانہ کے پنڈتوں کے خلاف عظیم جدوجہد کو غلط سمجھا ہے۔حضرت بدھ نے قطعی طور پر ان تو ہم پرست عقائد اور بتوں کا انکار کیا تھا جن کے ماننے والوں نے کبھی خدا تعالیٰ کو دیکھا، نہ سنا۔لیکن حضرت بدھ کا جواب یہیں ختم نہیں ہو جاتا بلکہ ان کا دعویٰ تھا کہ تھا گتا (Tathagata) کیلئے خدا کی طرف رہنمائی کوئی مشکل بات نہیں۔انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ وہ خود بھی انسان کی خدا کی طرف رہنمائی کر سکتے ہیں۔کیونکہ وہ خدا کی طرف سے مامور کئے گئے ہیں اور ان کا خدا کے ساتھ زندہ تعلق ہے۔اب یہ امر واضح ہو چکا ہے کہ حضرت بدھ کا خدائے بزرگ و برتر پر پورا ایمان تھا جس نے انہیں مبعوث کیا تھا۔جس طرح منا سا کٹا (Manasakata) کے لوگ اپنے گاؤں کی طرف جانے والے راستوں سے واقف تھے اس سے کہیں بڑھ کر حضرت بدھ کو خدا کا عرفان حاصل تھا۔چنانچہ انہوں نے بڑی تحدی سے دعوی کیا کہ ان کا خدا کے ساتھ مسلسل زندہ تعلق ہے۔یہ مقام خدا کے قرب کے حوالہ سے محض الہام پانے کی نسبت کہیں زیادہ بلند تر ہے۔بہت سے بزرگ انبیاء کا یہی دعوی ہے کہ موت سے پہلے اس دنیا میں ہی ان کا خدا کے ساتھ ایک زندہ اور دائمی تعلق قائم ہو جاتا ہے۔یعنی تمام انبیاء کو خدا کی طرف سے اس تعلق کا تجربہ حاصل ہوتا ہے اور حضرت بدھ بھی اس سے مستی نہیں۔حضرت بدھ خدا کو برہما اس لئے کہتے تھے کہ ہندو اپنے دیوتاؤں کے ذکر میں اس اصطلاح کو خدا نے عظیم کیلئے استعمال کیا کرتے تھے۔لہذا جوں جوں گفتگو آگے بڑھتی رہی بات اور بھی واضح ہوتی چلی گئی۔حضرت بدھ کی بات مکمل ہونے پر نوجوان برہمن واسیتا نے اس مقدس ہستی کی خدمت میں عرض کی: گوتما! مجھے معلوم ہوا ہے کہ سامانا (Samana) گوتما خدا کے پانے کا طریق جانتے ہیں۔یہ درست ہے! ہم قابل احترام گوتما کی خدمت میں درخواست کرتے ہیں کہ ہماری رہنمائی اُس رستے کی طرف فرما ئیں جو برہما کی طرف لے کر جاتا ہے۔اسے عظیم گوتما! ہماری نسل کو تباہی سے بچالیں۔‘9