الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 123
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 123 حضرت بدھ نے سوال کیا کہ کیا آپ دونوں نے بھی برہما کو دیکھا ہے؟ جواب پھر نفی میں تھا۔پھر انہوں نے واسیتا سے پوچھا کہ ایک شخص جو منا سا کٹا میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا ہو، اس سے مناسا کٹا کا راستہ پوچھا جائے تو کیا وہ راستہ بتانے میں کوئی وقت محسوس کرے گا؟ واسیتا نے جواب دیا ہر گز نہیں، اور ایسا ممکن بھی نہیں۔اے مقدس گوتما! ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ کیونکہ جو شخص مناسا کٹا میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا ہو وہ تو مناسا کٹا کی طرف جانے والے ہر راستہ سے پوری طرح واقف ہو گا۔اس موقع پر حضرت بدھ نے وضاحت فرمائی کہ: پس اے واسیتا! ایسا شخص جو منا سا کٹا میں ہی پیدا ہوا اور وہیں پروان چڑھا ہو، مناسا کٹا کا راستہ بتانے میں شاید دقت محسوس کرے لیکن تھا گتا Tathagata (روحانی نور سے آشنا یعنی خود بدھ) سے اس راستہ کے بارہ میں پوچھا جائے جو ہر ہمایا خدا تک پہنچاتا ہے تو وہ راستہ بتانے میں کسی مشکل یا شک میں مبتلا نہیں ہو گا۔کیونکہ اے واسیتا ! میں برہما یعنی خدا اور اس تک پہنچنے کے راستوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔اور ہاں، میں انہیں یوں پہچانتا ہوں جیسے میں اس عالم کا حصہ ہوں اور وہیں پیدا ہوا ہوں۔7 حضرت بدھ کا موقف تھا کہ مناسا کٹا کے رہنے والوں کو وہاں جانے والے راستوں کا بخوبی علم ہونا چاہیئے۔اسی طرح تعلق باللہ کے دعویدار کو خدا کی طرف جانے والے راستوں کا علم ہونا چاہیئے۔اور یہ بھی ممکن ہے جب وہ واقعہ خدا کی طرف سے آیا ہو اور اس کا عرفان رکھتا ہو۔حضرت بدھ کے سوال و جواب سے صاف ظاہر تھا کہ ان دونوں کے کسی بھی گورو (استاد) نے نہ تو کبھی خدا کو دیکھا تھا اور نہ ہی انہیں خدا کی معرفت حاصل تھی۔اس لئے خدا کی ہستی کی شناخت ان کی سمجھ سے بالا تھی۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس مکالمہ میں بدھ کے دلائل سے یہ غلط نہی پیدا ہوگئی ہو کہ وہ اس لئے خدا کے وجود کا انکار کر رہے ہیں کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔درحقیقت مترجم نے اپنی کتاب کے دیباچہ میں اس مکالمہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ: د اگر تم برہما سے ملنا چاہتے ہو ( تم جیسوں کیلئے بہتر ہے کہ تم اس کی خواہش نہ ہی کرو) تو اسے حاصل کرنے کا یہی رستہ ہے۔" 866 اس مکالمہ کے تجزیہ سے ظاہر ہے کہ حضرت بدھ نے جو بات پورے وثوق سے بیان کی