الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 119 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 119

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 119 بد قسمتی سے یورپین محققین نے ہندوستان کی مذہبی یادگاروں کے مطالعہ کو کمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ہندوستانی ثقافت کے ماہرین، جن کے ذریعہ ہمیں بدھ مت کا علم حاصل ہوا ہے، کبھی ہندوستان گئے ہی نہیں۔اس مذہب کے بارہ میں ان کا علم صرف کتابی تھا۔سوء اتفاق سے وہ فلسفیانہ کتب ان کے ہاتھ لگ گئیں جو بدھ کی وفات کے پانچ چھ سو سال بعد لکھی گئی تھیں اور جو عملی تعلیم سے یکسر مختلف تھیں۔مابعد الطبیعیاتی نظریات جنہوں نے اپنے علم کی گہرائی سے یورپین محققین کو متحیر کر دیا کوئی نئی چیز نہ تھے۔جب لوگ ہندوستانی کتب سے متعارف ہوئے تو پتہ چلا کہ اس فلسفہ حیات کے ماننے والے برہمن فرقے اس دور میں بھی موجود تھے۔“ یہاں تک تو ڈاکٹر لے بون (Dr۔Le Bon) کی تنقید درست ہے لیکن درج ذیل اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ خود بدھ مت کے حقیقی تصور کو نہیں سمجھ سکے۔کیونکہ مزاروں (stipas) پر کندہ تحریرات ثابت کرتی ہیں کہ مہاتما بدھ ہرگز مشرک نہیں تھے۔ڈاکٹر لے بون کا بیان ہے کہ :- "" بدھ مت کے بارہ میں معلومات ہمیں کتابوں سے نہیں بلکہ یادگار عمارتوں سے حاصل ہوئی ہیں۔یہ عمارتیں جو معلومات ہمیں مہیا کرتی ہیں وہ کتب سے حاصل کردہ معلومات سے حیران کن حد تک مختلف ہیں۔ان سے ثابت ہوتا ہے کہ بدھ مت جسے دور جدید کے محققین ملحدانہ خیال کرتے ہیں دراصل انتہائی مشرکانہ رسوم کا حامل ہے۔2 * لیکن جیسا کہ ابھی ثابت کیا جائے گا اس تحریر کا آخری حصہ درست نہیں۔ڈاکٹر لے بون کے بعد آنے والے مشہور سکالر آرتھر لگی (Arthur Lillie) نے اشوکا کے مزاروں پر کندہ تحریرات کے بغور مطالعہ کے بعد بالکل مختلف نتیجہ نکالا ہے۔اس سلسلہ میں انہوں نے اپنی کتاب India in Primitive Christianity میں بہت سے حوالے دیئے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ نقوش خاص مقصد کیلئے صرف تعمیر شدہ مزاروں پر ہی نہیں بلکہ ان چٹانوں پر بھی ڈاکٹر لے بون کے ان دونوں اقتباسات کا فرانسیسی سے ترجمہ دیانتداری سے کیا گیا ہے۔(مصنف)