الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 111
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 111 کو بندروں، جنگلی سوروں ، مگر مچھوں یا صرف کیڑوں مکوڑوں کی شکل میں دوبارہ پیدا ہو۔دوبارہ زندگی پانا اچھی بات سہی مگر کس قیمت پر! آئیے ایک بار پھر ان چار رشیوں کی بات کریں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان پر وید نازل ہوئے۔اگر ہندو فلسفہ کو مان بھی لیا جائے تو ان رشیوں کا زمانہ زمین پر زندگی کے آغاز سے بہت پہلے کا زمانہ بنتا ہے جب فضا میں آکسیجن بھی موجود نہیں تھی۔سوال تو یہ ہے کہ وہ کون سے کرم تھے جن کے نتیجہ میں انہیں رشیوں کا مقام عطا ہوا۔نیز یہ بھی کوئی اتنا غیر اہم سوال نہیں ہے کہ آکسیجن کے بغیر نسلاً بعد نسل زندہ کیسے رہے اور ان کی غذا کیا تھی۔سمندر اور فضا تو وائرس اور بیکٹیریا کی ابتدائی شکل میں آلودگی سے بھرے ہوئے تھے۔ان مقدس لوگوں کی پہلی نسل یا تو بیکٹیریا پر مشتمل اس خاص خوراک پر پلی ہوگی یا پھر ہو سکتا ہے کہ حیات انسانی کی ابتدا ہی مقدس رشیوں کی بجائے مقدس وائرس اور پاکباز بیکٹیریا سے ہوئی ہو۔اگر رشیوں کی بعثت کے وقت کا اندازہ غلط ہے اور اگر وہ اس زمانہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے جس پر بعض تعلیم یافتہ پنڈت اصرار کرتے ہیں تو پھر زمین پر زندگی کا ظہور اور ویدوں کا نزول بہت بعد میں ہوا ہے جو کرہ ارض پر تبت کی سطح مرتفع اور اس کے گردو نواح کے وجود میں آنے سے پہلے ممکن نہیں۔در حقیقت پورے برصغیر کی موجودہ شکل کوئی دو سے چار کروڑ سال قبل ہی معرض وجود میں آئی ہے۔اگر چہ 16 کروڑ سال قبل ہندوستان کے خدو خال کسی حد تک برصغیر کے طور پر متشکل ہو چکے تھے لیکن اس کا ایشیا کے ساتھ ادغام نہیں ہوا تھا جس کے نتیجہ میں ہمالیہ، دیگر سلسلہ ہائے کوہ ، سطح مرتفع تبت اور اس کے گردو نواح کے علاقے وجود میں آئے۔اس سارے دورانیہ میں تبت کا کسی معین وقت میں معرض وجود میں آنا اتنا اہم نہیں ہے۔متحجرات (fossils) کے مطالعہ سے ملنے والی شہادت کے مطابق بلا شک و شبہ کرہ ارض پر زندگی کا ظہور بر صغیر کا خطہ وجود میں آنے سے تقریباً آٹھ کروڑ سال پہلے ہو چکا تھا۔سطح مرتفع تبت کی بلندی پر بیٹھنے والے کچھ بھی ہوں، انسان بہر حال نہیں تھے۔کیونکہ انسان زمین پر بہت بعد میں پیدا ہوا۔اس وقت ڈائنا سار تھے جو زندگی کی سب سے ترقی یافتہ شکل تھی۔ظاہر ہے کہ قوت متخیلہ کی بڑی سے بڑی جہت سے بھی کسی ڈائنا سار رشی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔پس اگر موجودہ تحریف شدہ ویدوں کی تعلیمات کو ظاہری معنوں میں لیا جائے تو