الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 108
108 هندو مت اس فرضی تشریح کا اطلاق تمام عالم حیوانات پر ہوتا ہے مثلاً شیر کے بارہ میں یہ تاثر کہ وہ نیک اور پارسا ہے صرف اپنی جبلت کے ساتھ مخلص رہنے کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے۔اس صورت میں زندگی کی قدر نہ کرنا شرافت کی یقینی علامت ٹھہرے گی۔بصورت دیگر اگر وہ گوشت خوری ترک کر دے جو کہ اس کی شریفانہ جبلت کی کھلی نافرمانی ہے تو ایسے درندہ صفت گھاس خور شیر کیلئے اگلے جنم میں ایک مردار خور گدھ کے درجہ پر تنزل کا خاصا امکان ہے۔پس جنگلی درندے خدا کے نزدیک صرف اسی صورت میں شرفا قرار پائیں گے جب وہ اپنی غیر شریفانہ جبلت کی پیروی جاری رکھیں۔مذکورہ بالا بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ جب تک جانوروں کو اختیار سے محروم نہ سمجھا جائے ، ان کی جبلت کو الہی ضابطہ حیات قرار نہیں دیا جا سکتا۔تاہم اگر ویدوں کے حامی یہ اصرار کریں کہ جانوروں کا جہلمی رویہ ہی الہی احکام کا متبادل ہے تو پھر تمام جانوروں کی ان کے اگلے جنم میں انسانوں کے درجہ پر ترقی ہو جانی چاہئے کیونکہ وہ اپنی جبلت کی من وعن پیروی کرتے ہیں۔یہ ایک انتہائی خطرناک تجویز ہے جو انسان کے علاوہ تمام دوسرے حیوانات کے مکمل خاتمہ پر منتج ہو گی۔اس سے انسانی آبادی کا بند ٹوٹ جائے گا اور انسان ابتدائی زمانہ میں لوٹ جائے گا۔کیا ان کے زندہ رہنے کیلئے خوراک میسر ہوگی یا بالآخر وہ بھی آدم خوری پر اتر آئیں گے؟ کیا ہوگا یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔تا ہم نسل انسانی کی خوش قسمتی ہے کہ جانوروں میں کرموں کا کوئی نظام دکھائی نہیں دیتا۔جو روحیں ایک دفعہ جانوروں کی جون میں ڈال دی جائیں انہیں کبھی بھی اپنا کھویا ہوا انسانی مقام دوبارہ نہیں مل سکتا۔پس کرموں کا نظام انسانی مقدر کو ایک انتہا سے دوسری انتہا تک جھولا جھلاتا رہے گا۔اگر اسے کبھی ارادہ کی آزادی اور اختیار کا حق دیا گیا تو وہ ان انتہاؤں میں سے کونسی انتہا منتخب کرے گا ؟ اگر اس میں ذرہ برابر بھی عقل ہوئی تو یقیناً کوئی انتخاب بھی نہ کرنا ہی اس کا واحد دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔یہاں ہم یہ بھی بتا نا مناسب سمجھتے ہیں کہ آواگون کا ہندو فلسفہ معدودے چند افراد کے لئے ایک تیسری صورت بھی پیش کرتا ہے۔ایسے انسان مثلاً چاروں رشی جو کامل زندگی گزارتے ہیں، انہیں جونوں کے چکر میں فوراً نہیں ڈال دیا جاتا بلکہ ان کی ارواح کیلئے سکون اور چین کے ایک