الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 107
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 107 قائم مقام ہوں گے۔اگر جانوروں کا فطری نظام ہی ان کے لئے خدائی احکام کا قائم مقام ہے تو دیکھنا ہوگا کہ وہ اپنے اس مزعومہ اختیار کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟ علاوہ ازیں انسانوں میں الہبی تعلیمات انسانی واسطہ ہی سے پہنچتی ہیں ( بلا شبہ چاروں رشی انسان ہی تھے )۔لیکن عقل سلیم اس امر کو قبول نہیں کرتی کہ نبوت کا سلسلہ جانوروں میں بھی موجود ہو۔ہر نوع کے فہم کے دائرہ کی ایک حد ہوا کرتی ہے جو اس کے مخصوص طرز زندگی سے مترتب ہوتی ہے۔اگر جانوروں میں بھی نبی مبعوث کئے جانے مقصود ہوں تو حیات کی ہر نوع کیلئے علیحدہ علیحدہ نبی چاہئے۔اگر جانوروں میں ان کے رشی پیدا ہونے ہیں تو پھر شیروں، بھورے ریچھوں، برفانی ریچوں، لگڑ بگڑ ، رینگنے والے جانوروں، تمام قسم کی مچھلیوں اور ہر قسم کے پرندوں میں ایسا ہوتا چاہئے۔مثلاً کیا کوئی کوے نبی یا بھیڑیے رشی کا تصور کر سکتا ہے؟ مگر اسی پر بس نہیں۔اگر جبلت ، الہی تعلیم کی قائم مقام ہو اور جانوروں کیلئے اسے ضابطہ حیات قرار دیا جائے تو پھر اختیار والا وہی سوال ان کے جبلی رویوں کے تعلق میں بھی اٹھتا ہے جس کا جواب دینا ہو گا۔کیا جانور اپنے جیلمی رجحانات کو رد یا قبول کرنے کا اختیار رکھتے ہیں؟ اگر گھوڑے کیلئے گھاس یا دانہ کھانا جبلی طور پر طے ہے تو کیا اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ اس الہی حکم کو ٹال سکے۔اگر وہ نافرمانی کا فیصلہ کر ہی لے تو کیا وہ جبلت کے الہی قانون کی بے باکی سے مخالفت کرتے ہوے چارہ چھوڑ کر گوشت کھانا شروع کر دے گا؟ کیا ایسی صورت میں خدا بجا طور پر گھوڑے کو نافرمانی کی سزا دے سکتا ہے؟ شاید اگلے جنم میں اس کے لئے ممکن سزا یہ ہو کہ اسے گدھا بنا دیا جائے۔اگر وہ گدھا بھی بد اعمالی پر اصرار کرے جو اس کی اسفل پیدائش کا موجب بنی اور گوشت خور ہی رہے اور چارے کی بجائے کتے کا گوشت کھانے پر ہی اصرار کرے تو پھر کیا ہوگا۔ذرا سوچئے کہ اس صورت میں اس کا اگلا جنم کیا ہو گا۔ممکن ہے کتا بنا کر اسے باغی گدھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔کیا ہوگا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔یہ فرضی نقشہ ہم نے صرف ان بین السطور تضادات کو نمایاں کرنے کیلئے پیش کیا ہے جو ویدوں کی تعلیمات کی موجودہ ہندو تنظیم پر منی جونوں کے فلسفہ میں پائے جاتے ہیں۔ہمارے دل میں دور دور تک کسی کے احساسات کو صدمہ پہچانا مقصود نہیں ہے۔