الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 101 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 101

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 101 بھی جنم لینا شروع کر دیا۔Flatworms, Tapeworms, Roundworms اور Threadworms کے بارہ میں کیا کہیں گے جو شیر خوار بچوں کو بھی معاف نہیں کرتے۔پھر وائرس اور بیکٹیریا کی بیشمار اقسام ہیں جن کے روپ میں معتوب انسان نے خون کی نالیوں، خلیائی بافتوں اور اعضائے رئیسہ میں جنم لیا ہو گا۔حتی کہ ہڈیوں کے گودے میں بھی انسان کو اس کے اپنے ہی ہاتھوں سزا دینے کا کتنا نر الاطریق ہے لیکن افسوس کہ انسان بقول ان کے پھر بھی اسے سمجھ نہ سکا۔بے شک بہت دلچسپ نظام ہے جس کی تائید میں پروفیسر ورمن کا دعوی ہے کہ ان کے پاس ٹھوس شہادتیں موجود ہیں۔اس میں صرف واحد نھا سا سقم یہ نظر آتا ہے کہ انسان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گناہ کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ الٹا اس کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہو رہی بلکہ اس کی بجائے اس میں دھما کہ خیر قسم کا اضافہ ہی ہو رہا ہے۔یہی بات ایک بار پھر ہمیں ماضی کی طرف لے جاتی ہے جب بقول ان کے زندگی کا آغاز چار رشیوں اور عامۃ الناس کی تخلیق سے ہوا۔اگر اس وقت کا انسان سماجی اور روحانی لحاظ سے بہترین تھا تو اس نیک نسل کے ختم ہونے کے بعد تو اس کے ادنی درجہ کی نوع میں تبدیل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ کرموں کا نظام اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ جب تک انسان نیکی پر قائم ہے، کوئی انسان کسی نوع کے جانور کی شکل میں پیدا نہیں ہوسکتا۔کیونکہ بقول ان کے تناسخ کے اصول کے مطابق حیوانات تو صرف انسانوں کی کسی گنہگار نسل کے گناہوں کی سزا کے نتیجہ میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پروفیسرورمن کے پاس اس مشکل کا حل یہ ہے کہ جوں جوں انسانی نسلیں مقدس رشیوں سے دور ہوتی چلی گئیں ان کا کردار شکست وریخت کا شکار ہونے لگا۔صاف ظاہر ہے کہ اس کے بعد تو یوں ہوا کہ انسان کے گناہوں کی وجہ سے انواع و اقسام کے حیوانات کی تخلیق کی راہیں کھل گئیں۔لیکن اگلے جنم میں حیوانات کے درجہ پر پیدا ہونے والی ایسی گنہگار روحوں کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی جنہیں عمل تناسخ کے نتیجہ میں انسانی رتبہ سے گرا کر سزا کے طور پر کمتر اقسام میں دوبارہ پیدا کیا گیا ہو۔ا لیکن یہ منصوبہ صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتا تھا جب اس وقت کے انسانوں کی