الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 98
98 هندو مت میں موجود قدیم ترین پانیوں میں بہت ابتدائی نامیاتی مرکبات اور خلیات سے پیدا نہیں ہوئی۔چنانچہ پروفیسر جے ورمن (J۔Verman) اپنی کتاب "The Vedas " میں لکھتے ہیں: ایسے دانشور جن کے ذہنوں میں ڈارون کا غیر مستند نظریہ ارتقا مسلط ہو چکا ہو ان کیلئے الہام کے اس راز کو سمجھنا مشکل ہے۔تا ہم ہمارے پاس ایسی ٹھوس شہادتیں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی حالت ابتدائے زمانہ میں بہتر تھی اور ایسی کوئی دلیل موجود نہیں جس سے سمجھا جائے کہ قبل از تاریخ کا انسان یقینا وحشی ہوگا۔ویدوں کے رشی سادہ لوح لوگ نہیں تھے وہ تو شاعر، اہل وجدان اور روحانیت سے مرصع تھے۔ان کے شاگرد جو خود بھی رشی تھے، منتروں کو سنتے ہی ان کا حقیقی مفہوم سمجھ لیتے تھے۔ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ پھر جوں جوں لوگوں کی ذہنی اور نفسیاتی قو تیں انحطاط پذیر ہونے لگیں رشیوں کی نسلیں بھی معدوم 1 ہونے لگیں۔“ پروفیسر ہے۔ورمن کا خیال ہے کہ موجودات کے الہی منصوبہ کی رو سے یہ زمین اور اس پر زندگی ازل سے بار بار پیدا ہوتی چلی آرہی ہے۔زمین کی ہر نئی پیدائش پر ہر بار ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے اور زندگی کے ہر نئے آغاز پر برہما رشیوں پر آفاقی آئین کے طور پر ویدوں کو نازل کرتا ہے جن کی روشنی میں رشی زمین پر بسنے والے دوسرے انسانوں کیلئے قانون سازی کرتے ہیں۔اس طرح زندگی کا آغاز انسانوں سے ہوا نہ کہ حیات کی دوسری انواع سے۔اسی کتاب کے ایک اور اقتباس سے دنیا کی چھت پہ بیٹھے ہوئے چار رشیوں کا مقام مزید واضح ہو جاتا ہے کہ وہ مستقبل کی انسانی نسلوں کیلئے کیا چھوڑ کر جارہے تھے: " چاروں بزرگ اہل نظر یعنی اگنی وای سوریا، اور انگیرا جو درحقیقت اعلی ترین دانش اور ممتاز روحانی شان کے حامل انسان تھے ان کے دل تخلیق کے خوشکن مناظر کو دیکھ کر وجد میں آگئے اور ان کی نظریں بام دنیا سے تبت کی منوسمرتی جھیل کا نظارہ کرنے لگیں جو علاقہ میں مقدس شعائر کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ سرزمین دیوتاؤں کی سرزمین ہے اور ہمالیہ کے اس پار عظیم دریاؤں گنگا، سندھو، برہما پترا اور شا تا درد کا عظیم الشان سرچشمہ ہے جو فطرت کے پرکشش مناظر اور پروقار برف پوش چوٹیوں سے گھری ہوئی ہے۔ان (رشیوں ) کے دل ایک سرور