الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 95

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 95 (والدین) نے بچے کا نام کنہیا' رکھا۔کرشنا کا نام جس کے معنی روشن کیا گیا کے ہیں انہیں بعد میں دیا گیا۔ان کے بارہ میں مشہور ہے کہ ان کا بچپن عام بچوں جیسا تھا سوائے اس کے کہ ان کے اندر ایک خارق عادت رنگ پایا جاتا تھا جیسا کہ انبیاء کے بارہ میں بھی ان کے پیروکار ایسے ہی عقائد رکھتے ہیں۔وہ عام انسانوں کی طرح معاملت کرتے تھے۔عام انسانوں کی طرح ہی انہوں نے زندگی گزاری اور عام انسانوں کی طرح وہ بھی حوائج ضروریہ کے محتاج تھے۔بعض ہندو تجزیہ نگاروں کے مطابق بچپن میں ان سے کبھی کبھار بچپنے کی حرکات بھی صادر ہو جایا کرتی تھیں۔جیسا کہ تجزیہ نگاروں کے بقول وہ گھر سے سیر دوسیر مکھن بھی چرا لیا کرتے تھے۔تاہم اسے ہم حضرت کرشن کا کوئی جرم نہیں سمجھتے۔کیونکہ رحمدل بچے اپنے غریب ساتھیوں کی خاطر جائز سمجھتے ہوئے ایسا کر ہی لیتے ہیں۔ایسے بچہ پر تو پیار آتا ہے نہ یہ کہ اس سے نفرت کی جائے۔یہ سب کچھ بشریت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے اور کسی طرح بھی خدا کے دوسرے انبیاء سے مختلف نہیں۔بڑے ہو کر وہ ایک مضبوط اور مثالی رہنما کے طور پر ابھرے اور میدان جنگ میں تاریخ ساز فتوحات کی حامل فوجوں کے سپہ سالار بنے۔وہ اپنی زندگی میں ایک عالی مرتبت روحانی نمونہ بن کر سامنے آئے اور پھر عمر بھر ایک عظیم مصلح کا کردار ادا کیا جس کی مثال ہندوستان میں خال خال ہی ملے گی۔انہوں نے لوگوں کو نیکی کی تلقین کی اور بدی سے روکا۔ان کے نزدیک ضروری تھا کہ شریر لوگوں کا قلع قمع کیا جائے کیونکہ ایسے لوگ مذہب کو ختم کر کے الحاد کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔جہاں تک حضرت کرشن کے جسمانی خدو خال کا تعلق ہے وہ کچھ انوکھے سے نظر آتے ہیں۔ہندو فنکاروں نے ان کی جو تصویر بنائی ہے اس میں ان کے دو کی بجائے چار ہاتھ ہیں۔اسی طرح ان کے پر بھی دکھائے گئے ہیں۔اکثر تصاویر میں انہیں بانسری بجاتے دکھایا گیا ہے۔نیز خوش رنگ کپڑوں میں ملبوس کچھ خوبرو دوشیزائیں ان کے ارد گرد بیٹھی دکھائی گئی ہیں جو گو پیاں“ کہلاتی ہیں۔گوئی ایک اصطلاح ہے جو گائیں پالنے والی عورت کیلئے مستعمل ہے۔اسے چرواہن بھی کہتے ہیں۔یہاں یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ خود کرشن کا لقب بھی گوپال تھا جس کا مطلب ہے لگا ئیں پالنے والا۔اس کو اگر اسرائیلی انبیاء کیلئے بائیل کی اصطلاح یعنی ”بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے چر وا ہے“ کے پس منظر میں پڑھا جائے تو مشابہت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔چونکہ ہندوستان میں