الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 78

78 یونانی فلسفه نظریات اور اس کے اپنے عمل اور تجربہ کے مابین ایک فرضی تضاد کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ ایک اچھی کاوش ہے لیکن اس نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ در حقیقت کوئی تضاد موجود ہی نہیں ہے بڑا معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا ہے۔ولاسٹوز کی نظر میں سقراط کا فلسفہ سراسر عقلیت پسندی پر مبنی ہے۔لیکن اس کا الہام کا تجربہ اور رہنمائی کرنے والی ایک برتر ہستی پر اس کا اعتقاد ایسا تضاد ہے جو بہر حال دور ہونا چاہئے۔اس حل کیلئے اس نے خود سقراط کا حوالہ دیا ہے۔چنانچہ اپنی عقلیت پسندی کے بارہ میں سقراط کہتا ہے: ا یہ پہلی مرتبہ نہیں بلکہ میں ہمیشہ سے ہی اس قسم کا انسان ہوں کہ میں کسی بات سے قائل نہیں 866 ہوتا سوائے اس کے کہ گہرے غور و فکر کے بعد کوئی نظریہ بہترین نظر آئے۔8 سقراط کے عقلی استدلال کی اہمیت پر اتنا زور دینے کے باوجود جب وہ اپنے ذاتی تجربات کی بات کرتا ہے تو ولا سٹوزا سے ایک تو ہم پرست انسان قرار دیتا ہے۔چنانچہ وہ لکھتا ہے: اس کے باوجود وہ مافوق الفطرت ذرائع سے ملنے والے احکامات کی اطاعت پر کمر بستہ ہے“۔8 اپنے دعویٰ کو سچا ثابت کرنے کیلئے ولاسٹوز سقراط کے اس بیان کا حوالہ دیتا ہے جو اس نے مقدمہ کی کارروائی کے دوران دیا: میں یہی کہوں گا کہ مجھے خدا نے نہ صرف الہامات اور رویا کے ذریعہ اس کام کو سرانجام دینے کا حکم دیا ہے بلکہ دیگر تمام ذرائع سے بھی یہ حکم دیا گیا ہے جن سے آج تک کسی کو بھی کچھ کرنے کا حکم دیا جاتا رہا ہے۔8 یہ مفروضہ قائم کرنے کے بعد ولاسٹوز نے یہ ثابت کرنے کیلئے کہ سقراط پر روحانی تجربہ کا الزام غلط ہے بہت طویل بحث کی ہے۔حالانکہ سقراط خود اپنے اس روحانی تجربہ کا معترف ہے۔نہایت پیچیدہ دلائل کے بعد بالآخر وہ یہ مفروضہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ در حقیقت سقراط اس روحانی تجربہ پر یقین نہیں رکھتا اگر چہ بقول اس کے وہ خود صاحب تجربہ ہے۔بہر حال ولاسٹوز اپنی