الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 72
72 یونانی فلسفه ہوئی ہیں ان کے مفہوم و معانی کی تعیین و تنظیم خاصی مشکل اور مشتبہ ہو کر رہ گئی ہے۔مثلاً ایک ایسی ہی اصطلاح arete کو لے لیجئے۔سوال یہ ہے کہ کیا اس کے معنی نیکی کے ہیں یا اس کا کوئی اور مفہوم ہے۔ڈبلیو۔کے سی گتھری (W۔K۔C۔Guthrie) کا نقطہ نظریہ ہے کہ: ’ یہ بات اب ہمارے علم میں ہے کہ نیکی (Virtue) کے لفظ کو غلط طور پر یونانی لفظ arcte کے ساتھ ملا دیا گیا ہے جس کے بنیادی معنی کسی کام میں مہارت کے ہیں۔3 گھری کے خیال میں گویا یہ وہ بات تھی جو عمل پسند اہل ایتھنز کے جذبات پر گراں گزری۔لیکن اس نے اپنی سمجھ کے مطابق arete کے جو معنی لئے ہیں ان میں واضح تضاد ہے۔کیونکہ اگر یہ تعریف درست ہے تو پھر ایتھنز کے باشندوں میں سے سب سے زیادہ عملیت پسند سقراط ثابت ہوتا ہے نہ کہ اس کے ناقدین جو صرف سیاسی داؤ پیچ اور اخلاقیات میں نفع نقصان کی حد تک دلچپسی رکھتے تھے۔دود سمجھ بوجھ رکھنے والے عمل پسند اہل ایتھنز کو سقراط کی ایک یہ بات بھی ناگوار گزرتی تھی کہ وہ بحث کا رخ غریب، مسکین اور بظاہر غیر متعلق افراد مثلاً موچی بڑھی وغیرہ کی طرف موڑنے پر اصرار کرتا ہے۔جبکہ اہل ایتھنز سیاسی داؤ پیچ کے اصول سیکھنا چاہتے تھے۔نیز وہ یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ آیا اخلاقی ذمہ داری قسم کی بھی کوئی چیز ہے ؟3 اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ تھری کے نزدیک سقراط کو خیر میں بطور اخلاقی قدر کے قطعا کوئی دلچسپی نہ تھی۔بلکہ بقول گتھری اس کے پیش نظر محض اپنی پیشہ وارانہ علمی اور تکنیکی مہارت اور اس مقصد کی توضیح و تشریح تھی جس کی خاطر وہ کام کر رہا تھا۔مثلاً اس کے نزدیک سیڑھی کی بناوٹ اور غرض و غایت کا علم رکھنا ضروری ہے۔گتھری کے نزدیک سقراط کا فلسفہ دراصل سیکولر ہے۔بالفاظ دیگر سقراط کی دینا ہی فقط ایک کاریگر کے فن اور اس کے مقصد تک ہی محدود تھی۔گھری نے جو نقشہ کھینچا ہے اس کے مطابق تو سقراط ، گلی گلی پھر کر اہل ایتھنز کو تلقین کیا کرتا تھا کہ دستکاری اور صناعی میں مہارت حاصل کریں۔امر واقعہ یہ ہے کہ گتھری سقراط کے فلسفہ کے بنیادی مقصد کو سمجھا ہی نہیں۔وہ تو یہ مانے کیلئے بھی تیار نہیں کہ سقراط کو خیر اور پر ہیز گاری میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی تھی۔