الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 71

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 71 زندگی آئندہ زندگی کیلئے بطور تیاری کے ہے۔وہ انسانی روح کو اہمیت دیتا تھا کیونکہ روح ہی ہے جس کا اگلے جہان میں جانا مقدر ہے۔سقراط کے اس فلسفہ کو آسمانی صداقت تو کہہ سکتے ہیں لیکن اسے کسی طور بھی سیکولر فلسفہ قرار نہیں دیا جا سکتا جیسا کہ جدید دانشوروں کا خیال ہے۔سقراط کو انبیاء کے زمرہ سے نکال کر محض فلسفیوں میں شامل کرنے کی بارہا کوشش کی گئی ید مصنفین بلند علمی مقام رکھنے کے باوجود سقراط کے حقیقی مقام کی شناخت سے یکسر لاعلم رہے ہیں۔انہوں نے سقراط کو ایک ایسا مقام دینے کی کوشش میں جو اس کا اصل مقام نہیں ہے، کتابوں کی کتابیں لکھ ماری ہیں۔ہے۔بہت سے جدید میں بعض مشہور محققین نے سقراط کے متعلق بعض فرضی تضادات کو جو در حقیقت موجود ہی نہیں، دور کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ان کے نزدیک الہام الہی پر سقراط کے اعتقاد اور اس کی عقلیت پسندی میں باہمی تضاد ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر عقل اور الہام میں کوئی تضاد ہے تو پھر یہ تضاد تمام انبیاء میں موجود ہونا چاہئے۔اور سقراط بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔انبیاء اور بانیان مذاہب نے بیک وقت الہام اور عقل پر ایمان رکھتے ہوئے دونوں کے پرچم کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ان کے نزدیک الہام اور عقل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔اگر ان میں انہیں کوئی تضاد دکھائی دیتا تو وہ اپنی راستبازی کی وجہ سے خدا اور عقل میں سے کسی ایک یا پھر دونوں کو ہی رڈ کر دیتے۔ان کے نزدیک خدا پر ایمان اور عقل دونوں متضاد ہو ہی نہیں سکتے۔پس وہ لوگ جنہیں سقراط کے اعتقادات اور اس کی عقلیت پسندی میں تضاد نظر آتا ہے خود نظر کے دھو کہ میں مبتلا ہیں۔انہیں دوبارہ سقراط کے نظریات اور اس کے بارہ میں مستند ماخذ کا بنظر غائر مطالعہ کرنا چاہئے۔اس صورت میں ان پر ایک نیا سقراط آشکار ہو گا جو بیک وقت موحد بھی ہے اور عقلیت پسندی کا علمبردار بھی۔سقراط سے متعلق مستند مواد کے مطالعہ سے یہ حقیقت بھی ان پر کھل جائے گی کہ وہ سب سے زیادہ اس امر کے متعلق فکر مند رہتا تھا کہ لوگ نیکی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور نہ ہی وہ اس کے حقیقی معانی سے آشنا ہیں۔دیکھا جائے تو سقراط دو ہیں۔ایک تاریخی اور دوسرا فرضی۔دونوں میں تضاد کی حد تک زمین آسمان کا فرق ہے۔یہی وجہ ہے کہ سقراط سے متعلقہ ماخذ میں جو لفظیات اور اصطلاحات استعمال