الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 70

70 یونانی فلسفه متعلق جو کچھ آج لکھا جا رہا ہے اس میں بار بارا سے مشرکانہ عقائد کا حامل بتایا جاتا ہے۔بایں ہمہ اسے ایک ایسا موحد بھی تسلیم کیا جاتا ہے جو خالق کائنات پر ایمان رکھتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اس کے وجود کا ذرہ ذرہ خدائے واحد کی محبت اور عقیدت کے نشہ میں سرشار تھا اور خدا تعالیٰ کی توحید پر اس کا ایمان غیر متزلزل تھا۔وہ یونانی دیو مالا کی خداؤں کو کسی قیمت پر ماننے کیلئے تیار نہیں تھا اور نہ ہی اس معاملہ میں اسے کسی قسم کی مفاہمت کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا تھا۔اس کی ساری زندگی نیکی، علم، سچائی کی اشاعت اور نفس کے تمام تضادات کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے وقف تھی۔وہ کامل انصاف اور احتساب پر یقین رکھتا تھا۔اسی طرح حیات بعد الموت اور جزا سزا پر بھی اسے کامل یقین تھا۔وہ تمام عمر برائی، جہالت، تکبر اور منافقت کے خلاف جہاد کرتا رہا۔اس نے توحید کی خاطر ایسے سکون اور اطمینان قلب کے ساتھ جان دی جو کسی بھی عظیم پیغمبر کے شایان شان ہے۔اس کی عظیم الشان قربانی کا صرف یہی ایک پہلو نہیں تھا۔دراصل ادنی سے جھوٹ کے ساتھ بھی مصالحت کرنا سقراط کی فطرت میں ہی نہیں تھا اور معاشرہ کے دباؤ کے نتیجہ میں اپنے عقیدہ میں معمولی سی تبدیلی قبول کرنے کی بجائے وہ بخوشی جان دینے کے لئے تیار تھا۔یہ وہی یونانی فلسفی نبی ہے جس کے متعلق بظاہر یہ متناقض دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ مغربی فلسفہ کا بانی مبانی تھا۔سقراط اور مغربی فلسفیوں کی سوچ میں کچھ بھی قدر مشترک نہیں ہے۔سقراط کا فلسفہ نیکی، عاجزی، کامل انصاف توحید پر پختہ ایمان اور دنیا و آخرت میں انسانی اعمال کے محاسبہ پر مبنی ہے۔کیا اس کے باوجود بھی سقراط کو ڈیکارٹ (Descartes)، ہیگل (Hegel)، اینگلز (Engels) اور مارکس کا جد امجد قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ضرور سقراط کے جسمانی نقوش امتداد زمانہ کے ہاتھوں کلیہ مٹ چکے ہوں گے۔ان فلسفیوں نے جس طرح اخلاقیات کو مسترد کیا ہے کیا بنظر انصاف ہم اس کے آثار سقراط میں تلاش کر سکتے ہیں؟ یقینا نہیں۔سقراط کی تو دنیا ہی اور تھی۔وہ تو انبیاء کی دنیا تھی۔سقراط رویائے صادقہ اور الہام پر ایمان رکھتا تھا۔وہ اس بات کا قائل تھا کہ علم صداقت ہے اور صداقت علم۔اس کے نزدیک انسان کیلئے خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ علم کے علاوہ کوئی علم قابل اعتبار نہیں ہے۔سقراط، اہل یونان کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کیلئے مامور کیا گیا تھا۔اس کے نزدیک یہ