الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 61

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 61 چلانے کیلئے کسی حکومت کی ضرورت نہیں پہنی چاہئے۔الغرض یہ ہے مارکسی مادیت کا یوٹوپیا یا مثالی معاشرہ۔تاہم دنیا کے تازہ ترین سیاسی اور اقتصادی رجحانات مادیت کے اس ڈھول کا پول پہلے ہی کھول چکے ہیں۔اس لئے مارکس کی اس جنت کو تباہ کرنے کے لئے کسی خارجی عنصر کی ضرورت ہی نہیں۔اخلاقیات سے روگردانی ہی اس کی مکمل تباہی کیلئے کافی ہے۔مارکس کے آمرانہ فلسفہ میں اور بھی کئی اندرونی نقائص موجود ہیں۔اس حقیقت سے قطع نظر کہ یہ نظام اپنے ممبران کیلئے کوئی ایسا اخلاقی ضابطہ وضع نہیں کرتا جو فرائض کی دیانتدارانہ ادائیگی کے سلسلہ میں ان کی رہنمائی کرے، اس نظام میں خدا تعالیٰ کے وجود کا قطعی انکار نیز یہ دعویٰ کہ چونکہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہ ہوگی لہذا حساب کتاب کا بھی کوئی سلسلہ نہیں ہوگا ، یہ امر پارٹی کے کارکنان کو مکمل بے راہ روی اور خود غرضی میں دلیر بنا دیتا ہے۔اگر بے لگام ذاتی خواہشات کو حدود و قیود کا پابند نہ کیا جائے تو خود غرضی اور مفاد پرستی کو عروج حاصل ہو جاتا ہے اور ہر فرد واحد اپنی طمع و حرص کی تسکین کیلئے ہر قسم کے کام کو جائز سمجھنے لگتا ہے۔بدعنوان لوگ ہمیشہ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے جتھے بنا لیتے ہیں۔وہ اپنے جیسے لوگوں کے تعاون سے اپنے جرائم پر پردہ ڈال کر بالآخر عموماً سزا سے بچ نکلتے ہیں۔غالباً انسان کے اندر اسی خود غرضی کے میلان کو دیکھ کر مارکس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ انسان اخلاق عالیہ سے عاری ایک حیوان ہے۔لیکن اس وقت اس کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ انسان کا یہی میلان بالآخر اشتراکی نظام کو تہ و بالا کر دے گا۔مارکس کے غیر ریاستی معاشرہ کے قیام میں اور اس حسین خواب کی تعبیر کے راستہ میں صرف اخلاق عالیہ کا انکار ہی واحد رکاوٹ نہیں۔بات دراصل یہ ہے کہ ایک غیر ریاستی معاشرہ کو منزل تک پہنچنے کیلئے یہی کافی نہیں کہ سب کو ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں اور نہ ہی انسانی ہوس اقتصادی ضرورتوں تک محدود ہوا کرتی ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کسی بھی آمرانہ نظام میں اقتدار کے اصل ماخذ پر قبضہ کرنے کی ہوس کو کیسے روکا جائے؟ نیز اس امر کی کیا سائنسی ضمانت ہے کہ اس قسم کے نظام میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے باہمی رقابتوں ، نفرتوں اور انتقامی جذبات سے کام نہیں لیا جائے گا؟ مارکس کا سائنسی فلسفہ اس مسئلہ کا ذکر تک نہیں کرتا۔