الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 59
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 59 اخلاقی اقدار سے دوری کا نتیجہ ہمیشہ ایک مطلق اور بد عنوان آمریت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔یہ بدعنوان اور مطلق آمریت زیادہ عرصہ تک ایک مخصوص حاکم طبقہ تک محدود نہیں رہ سکتی۔آمریت کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ بدعنوانی ہر سطح پر موجود ہو۔یوں بدعنوانی کے بنجر دائرے وسیع سے وسیع تر ہو کر تمام اطراف پر محیط ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ایک مرسل من اللہ کا منصب دنیوی حکمرانوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔نبی مکمل طور پر ایک کامل مذہبی اور اخلاقی ضابطہ کا پابند ہوتا ہے جس کی وہ خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔کیونکہ ایسی صورت میں اس کے اپنے منصب کی عمارت زمین بوس ہو کر رہ جاتی ہے۔یہاں یہ نکتہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ وحی الہی پر مبنی اخلاقی اقدار میں ہمیشہ ایک طرح کی ہم آہنگی اور موافقت پائی جاتی ہے اور اس میں یہ اہلیت بھی موجود ہوتی ہے کہ اپنے معتقدین کے کردار میں بھی ویسی ہی باہمی موافقت اور ہم آہنگی پیدا کر دے۔اس طرح الہامی سچائی یہ صلاحیت بھی رکھتی ہے کہ وہ انسان کے باطنی امراض کو شفا دے سکے۔انسان کا خالصہ اپنی عقل پر مبنی کوئی ایک بھی ایسا ضابطہ اخلاق نہیں ہے جو یہ معجزہ دکھا سکے خواہ اسے بے انتہا ظلم وستم ہی کی حمایت کیوں نہ حاصل ہو۔ایک آمر اور ایک نبی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ آمر ہر قسم کے قانونی ضابطہ کی پابندیوں سے کلی آزاد ہوا کرتا ہے جبکہ انبیاء اور ان کے پیرو کا رسب کے سب کلام الہی کے ذریعہ دی جانے والی اخلاقی تعلیمات پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔یہی بات ان دونوں کو ایک دوسرے سے کلیہ ممتاز کرتی ہے۔اگر ایک مرتبہ کمیونسٹوں کا اقتدار پر قبضہ ہو جائے تو محنت کش طبقے کی بغاوت بھی اسے اقتدار سے الگ نہیں کر سکتی۔اقتدار پر قابض یہ گروہ مطلق العنان اور بے رحم ہوتا ہے۔مارکسی لغت میں عفو و درگزر اور اخلاقیات کے لئے کوئی جگہ نہیں۔سٹالن اخلاق سے عاری اشترا کی کردار کی ایک بدترین مثال ہے۔اس کے مطلق العنان آمرانہ عہد حکومت میں جس طرح محنت کش طبقہ کا اشتراکیت کے نام پر قتل عام کیا گیا اسے صرف کمیونسٹ فلسفہ ہی قابل تحسین ٹھہراسکتا ہے۔افسوس کہ مارکس اپنی انتہائی ذہانت کے باوجود جدلی مادیت میں مضمر نقائص سے آگاہ نہ ہو سکا۔اشتراکیت کی طاقت اگر صحرائی طوفانوں سے بھی بڑھ کر غضبناک ہوتی تب بھی وہ انسانی معاشرہ میں اعلیٰ و ادنی کے تفاوت کو کبھی ختم نہ کر سکتی۔