الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 58

58 فلسفة یورپ کسی شیطانی دماغ والے بد کردار سرمایہ دار مافیا کی۔تاہم ایک فرق بلکہ بہت بڑا فرق جو مارکسزم کی بنیادی خامیوں اور موجودہ نقائص کو بے نقاب کرتا ہے، یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں معاشرہ کا ہر فرد ہمیشہ کسی نہ کسی حد تک آزادی سے لطف اندوز ہوتا ہے اور فرد کی یہ آزادی معاشرہ کی مجموعی ترقی کا باعث بنتی ہے۔لیکن اشتراکیت میں کسی قسم کی آزادی نہیں ہوتی۔اشتراکی معاشرہ کے ہر فرد میں مایوسی اور گھٹن کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے جو معاشرہ کے افراد کی ہر صلاحیت کو دبا دیتا ہے سوائے اس صلاحیت کے جس کی ترقی ریاست کی مجبوری ہو۔مارکسزم کو ایک یہ مشکل بھی درپیش ہے کہ اخلاقیات کی تعریف پارٹی یا گروپ کی بنیاد پر نہیں کی جاسکتی۔وہ معاشرہ جس کے افراد کی تعلیم و تربیت ہی دوسروں کے حقوق کی مکمل نفی پر کی گئی ہو اس کے لئے ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ خود اپنے حقوق کی ادائیگی کر سکے۔وہ اپنے اوپر عائد شدہ فرائض کی ادائیگی کو پسند نہیں کرتا۔انسانی کردار کا یہ خاصہ ہے کہ اگر ایک بار گمراہ ہو جائے تو پھر وہ ہمیشہ اسی راستے پر گامزن رہتا ہے۔یہی اصول اشترا کی نظام حکومت میں ہر سطح پر کارفرما نظر آتا ہے۔اس نظام پر جس کو چلانے کے وہ ذمہ دار ہیں بدعنوان لوگوں کی گرفت اخلاقی قدروں کے فقدان کی وجہ سے مضبوط تر ہوتی چلی جاتی ہے۔جوں جوں وہ بدعنوانی میں بڑھتے جاتے ہیں انہیں اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے اتنی ہی زیادہ سنگدلی اور ظلم و ستم سے کام لینا پڑتا ہے۔اخلاقیات اور بدعنوانی ایک ہی وقت میں ایک ہی راستہ پر نہیں چل سکتے۔اشترا کی نظام کے کرتا دھرتا لوگوں کی یہ مجبوری ہے کہ وہ چاہیں بھی تو اشترا کی دنیا میں اخلاقی اقدار کو قائم نہیں کر سکتے۔کیونکہ انہیں ابتدا ہی سے یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ غیر اشترا کی دنیا اور ان کے جملہ مفادات کے حوالہ سے اخلاقی پابندیوں کا کوئی لحاظ نہ رکھیں۔چنانچہ یہی امر آخر کار اشتراکی آمریت کے زوال کا ایک قومی سبب ثابت ہوا۔56۔آمریت انسان کو بدعنوان بناتی اور مکمل آمریت انسان کو مکمل طور پر بد عنوان بنا دیتی ہے۔یہ مشہور مقولہ اشترا کی قیادت پر مکمل طور پر چسپاں ہوتا ہے۔اخلاق سے عاری کوئی بھی نظام ظلم و تشدد، جبر و استبداد اور انصاف سے روگردانی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔جیسے نفرت سے نفرت ہی پیدا ہوتی ہے اسی طرح بد عنوانی، بدعنوانی ہی کو جنم دیتی ہے۔اشتراکی نظام میں حکومتی سطح پر