الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 57
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 57 قدریں ہیں جو ان کا راستہ روکیں اور نہ ہی ان کا ضمیر انہیں ملامت کرتا ہے۔جب اخلاقی قدریں ہی موجود نہ ہوں تو ضمیر کی ملامت کہاں سے آئے گی ؟ پس یہی وہ بے حس مشینی صورت حال ہے جو بالآخر اشترا کی نظام کی ناکامی کا باعث بنتی ہے۔گہرے تجزیہ کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ تمام آمرانہ نظام ہائے حکومت میں ایک عجیب و غریب قسم کا اندرونی تضاد پایا جاتا ہے۔اشتراکیت یا فسطائیت کے یک جماعتی فلسفہ اقتدار پر قائم حکومتیں ہوں یا سرمایہ داروں کی آمرانہ حکومتیں، ان سب میں ایک قدر مشترک موجود ہوا کرتی ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ اخلاقی اقدار کے متحمل نہیں ہو سکتے۔کیونکہ بے لگام ظلم وستم کے بغیر ان کی بقا ممکن نہیں ہوا کرتی۔اخلاقیات اور ظلم اکٹھے نہیں ہو سکتے۔لہذا یہ لوگ اخلاق کی عدم موجودگی میں خوب پھلتے پھولتے ہیں۔تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اخلاقیات کا یہ فقدان ہی آخر کار ان کے زوال کا باعث بنتا ہے۔استبدادی حکومتوں کی بقا کے لئے صرف سنگدلی ہی کافی نہیں بلکہ سنگ دلی کے ساتھ ساتھ چالا کی ، مکاری، منصوبہ سازی اور سازشی ذہنوں کی قوت بھی اتنی ہی ضروری ہوا کرتی ہے۔تمام آمرانہ حکومتیں دراصل شیطانی ذہن اور بے رحم دل کے ناپاک گٹھ جوڑ سے ہی معرض وجود میں آتی ہیں۔کچھ عرصہ تک تو یہ گٹھ جوڑ ان کو سہارا دیتا ہے لیکن بالآخر وہ انہیں بیچ منجدھار چھوڑ جاتا ہے۔انجام کار اخلاقی گراوٹ اور سازشیں ان کی تباہی کا باعث بن جاتی ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ حیات انسانی میں خیر اور شر کا ظہور کسی ناگزیر باطنی نظام کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ ذہن اور اخلاقی اقدار ہی وہ دو اہم ترین عناصر ہیں جن سے انسانی تقدیر تشکیل پاتی ہے۔ہر انسانی منصوبہ کے نتائج کا فیصلہ انہی عناصر کی خوبی یا خامی اور ان کی مضبوطی یا کمزوری پر منحصر ہوتا ہے۔چنانچہ مارکس دونوں لحاظ سے غلطی خوردہ ہے۔ذہن اور اخلاقی اقدار کو سائنٹفک سوشلزم سے نکال دیں تو یہ نظام نہ تو سائنٹفک رہتا ہے اور نہ ہی سوشل۔پرولتاری خواہ کتنی ہی کثرت میں کیوں نہ ہو جائیں وہ شرکی قوتوں کے حامل اذہان کی متحدہ قوت کا مقابلہ کرنے کی قطعا طاقت نہیں رکھتے۔وہ دور بہت ہی افسوسناک ہوا کرتا ہے جب کوئی خود پسند اور شریر ذہن کا مالک اقتدار پر قبضہ کرلے۔چنانچہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا پر اخلاقیات سے عاری کسی بے شعور مشینی مادیت پسند کی حکمرانی ہو یا